جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں جب بھی جس نے بھی بڑا بول بولا‘ وہ اللہ کی پکڑ میں آ گیا،جاوید چوہدری کا تجزیہ

datetime 12  جولائی  2017 |

مجھے صحافت میں پچیس سال ہو گئے ہیں‘ میں نے ان پچیس برسوں میں یہ سیکھا ہے کہ کسی سیاستدان کو کوئی بڑا بول نہیں بولنا چاہیے‘ ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان میں جب بھی جس نے بھی بڑا بول بولا‘ وہ اللہ کی پکڑ میں آ گیا‘ آپ تین تازہ ترین بڑے بول اوران بڑے بولوں کا نتیجہ دیکھ لیجئے‘ پہلا بڑا بول آصف علی زرداری نے بولا تھا ،اس بڑے بول کے بعد کیا ہوا پوری پیپلز پارٹی کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور مستقل رہنے کا دعویٰ کرنے والے زرداری صاحب مستقلاً باہر رہنے پر مجبور ہوگئے۔

آپ اب دوسرا بڑا بول ملاحظہ کیجئے ، آپ دیکھ لیجئے میاں صاحب بھی اس بڑے بول کے چار سو پینتیس دن بعد پکڑ میں آ گئے‘ منہ اور مسور دونوںان کے گلے پڑ گئے اور تیسرا بڑا بول مریم نواز صاحبہ نے چھ جولائی کو بولا تھا،روک سکتے ہو تو روک لو، روکنے والے تو شاید نہ روک سکتے لیکن قدرت نے انہیں روکنا شروع کر دیا ہے چنانچہ میری تمام سیاستدانوں بالخصوص حکمرانوں سے درخواست ہے آپ توبہ کریں‘ معافی مانگیں اور اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ آپ زندگی میں کبھی دوبارہ بڑا بول نہیں بولیں گے‘ عزت‘ رزق اور اقتدار صرف اور صرف اللہ کی امانت ہے‘ یہ جسے چاہے‘ یہ دے دے اور یہ جس سے چاہے جب چاہے واپس لے لے‘ ہم دعویٰ کرنے والے کون ہوتے ہیں۔حکومت کے پاس صرف دو آپشن ہیں‘ پہلا آپشن میاں نواز شریف کرسی چھوڑ دیں‘ یہ احسن اقبال‘ شاہد خاقان عباسی یا پھر خرم دستگیر کو وزیراعظم بنائیں‘ حکومت پانچ سال پورے کرے‘ سینٹ کے الیکشن ہوں‘ حکومتی منصوبے مکمل ہوں اور اگلے الیکشن ہو جائیں‘ دوسرا آپشن‘ یہ ان سازشوں اور ان سازشیوں کو سامنے لائیں جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘ بہترین اور سوٹ ایبل آپشن کیا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…