سرگودھا (این این آئی)ممکنہ طور پر درگاہ کے اگلے سجادہ نشین نعیم شاہ کے بھائی عباس شاہ واقعے کا مقدمہ درج کرانے سامنے آگئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہاکہ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم عبد الوحید کو ڈر تھا کہ اس کا عہدہ خطرے میں ہے، لہذا اس نے تمام افراد کو مار ڈالا۔عباس شاہ کا کہنا تھا کہ عبدالوحید اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ درگاہ کے احاطے میں نشہ کرتا تھا اور یہ تمام واقعہ پولیس کی سرپرستی میں ہوا۔
عباس شاہ کے مطابق متولی عبدالوحید نے اصل روحانی پیشوا محمد علی کے بیٹے آصف کو بھی مار ڈالا جو ان کے انتقال کے بعد سجادہ نشینی کا اہل تھا۔علاوہ ازیں سرگودھا میں عدالت نے 20 افراد کے قتل کے مرکزی ملزم عبدالوحید سمیت تین ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ہلاکتوں کا یہ واقعہ ہفتہ کی شب سامنے آیا تھا جب پولیس کو علم ہوا چک 95 شمالی نامی گاؤں میں قائم درگاہ علی محمد قلندر کے متولی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر تین خواتین سمیت 20 افراد کو لاٹھیوں اور چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کیا پولیس نے عبدالوحید کو اس کے ساتھیوں سمیت حراست میں لینے کے بعد اس واقعہ کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت چٹھہ نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے۔واقعہ کی ایف آئی آر میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات شامل کی گئی ہے۔عبدالوحید نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ انھیں زہر دینے کی سازش میں ملوث تھے۔ ایف آئی آر میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات شامل کی گئی ہے۔عبدالوحید نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ انھیں زہر دینے کی سازش میں ملوث تھے۔



















































