جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

سرگودھا واقعہ،بات بڑھ گئی،50سے زائد مرید کے ساتھ لرزہ خیز کارروائی ہوئی،ملزم ’’امام‘‘بننا چاہتاتھا،وحشت ناک انکشافات،مکمل تفصیلات جاری

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

سرگودھا (آئی این پی) سرگودھا شہر کے قریب نواحی چک 95 شمالی میں20افراد کے اجتماعی قتل کے المناک واقعہ میں علی محمد گجر کے آستانے پر متولی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملکر نشہ آور اشیاء پلا کر 50 سے زیادہ مریدین کو بے ہوش کرکے انہیں خنجروں اور ڈنڈوں کے وار کرکے ان کے اعضاء کاٹ کر 20 مریدین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں 16 مرد 4 عورتیں شامل ہیں بتایا گیا ہے کہ چک 95 شمالی میں

علی محمد گجر کا آستانہ موجود ہے جہاں کا متولی عبدالوحید بتایا گیا ہے گزشتہ روز عبدالوحید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آستانے پر آئے ہوئے مریدین جن میں مرد‘ خواتین اور بچے شامل تھے انہیں نشہ آور اشیاء پلا دیں اور بعد ازاں انہیں خنجروں اور ڈنڈوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا زخمی ہونیوالی مریم کشور ،محمدکاشف ،مریم بی بی ، توقیر،نے بھاگ کر زخمی حالت میں قریبی رہائشی علاقوں میں پناہ لی اور لوگوں کو مطلع کیا جس پر اہل علاقہ اکٹھے ہوئے تو عبدالوحید نے انہیں بھی قتل کی دھمکیاں دینا شروع کردیں اہل علاقہ نے پولیس کو اطلاع دی جو بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئی اور عبدالواحید سمیت اس کے 5 ساتھیوں کو مختلف مقامات سے حراست میں لے لیا دوران تفتیش عبدالوحید نے پولیس کو اقرار بیان دیا ہے تاہم پولیس عبدالوحید اور اس کے گرفتار ساتھیوں سے مزید تفتیش کررہی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش ہر پہلو پر کی جارہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں عینی شاہدین کے مطابق عبدالوحید خود کو امام تسلیم کروانا چاہتا تھا ڈپٹی کمشنر کے مطابق عبدالوحید الیکشن کمیشن کے ملازم ہے جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دربار پر گدی نشینی کا مسئلہ بھی تھا تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ دیرینہ دشمنی بھی ہوسکتی ہے مرنے والوں کا تعلق سرگودھا کے علاوہ اسلام آباد‘ میانوالی‘ پیر محل اور لیہ سے بھی بتایا گیا ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال

سرگودھا کے ڈاکٹر عثمان امتیاز کے مطابق جو زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں ان کی قمر اور ٹانگوں پر شدید ضربات کے نشانات ہیں پولیس نے گزشتہ روز آستانے کی صفائی کرنیوالے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا ہے،6 مرنے والے افراد کا تعلق چک 90 شمالی سے ہے جو ایک ہی خاندان کے بتائے گئے ہیں ڈاکٹرز‘ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق بعض مقتولین کے اعضاء بھی کٹے ہوئے تھے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں مقتولین کی نعشوں کا پوسٹمارٹم کرنے کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں مرنے والوں میں فرزانہ بی بی، نصرت بی بی‘ رخسانہ بی بی‘ شازیہ عمران‘ اشفاق‘ جاوید‘ بابر‘ خالد‘ ڈی ایس پی غلام شبیر کا بیٹا محمد حسین‘ جمیل‘ ندیم ‘ زاہد ملنگ‘ شاہد‘ سیف الرحمن ‘ محمد گلزار ،ساجد،سبحان ،وغیرہ شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں مریم بی بی‘ کشور بی بی‘ کاشف وغیرہ شامل ہیں پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر تفتیش شروع کردی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…