جمعہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2025 

دعوے ہوا میں اُڑ گئے،رواں سال صرف لاہور میں کتنے قتل ہوگئے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ( این این آئی)تحریک انصاف نے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب لاقانونیت میں سب سے آگے، رواں سال صرف لاہور میں371افراد قتل، صوبے بھر میں421خواتین، قتل،323کو غیرت کے نام پر مارا گیا۔ گزشتہ روز پنجاب پبلک سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے وائٹ پیپر میں اپوزیشن لیڈر پنجاب میاں محمود الر شید نے کہا کہ پورے صوبے بلخصوص لاہور میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، صرف ماہ نومبر میں جرائم کی شرح دیکھ کر یوں احساس ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر نے کراچی کے بعد لاہور کو اپنی آماجگاہ بنا لیا ہے۔

میاں محمود الر شید نے کہا کہ سال2015میں خواتین پر تشدد اور قتل کے واقعات میں پنجاب سرفہرست ہے، انہوں نے کہا کہ رواں سال گھریلو تشدد کے پنجاب میں ہونے والے واقعات کی تعداد1087ہے، مجموعی طور پر621خواتین اپنی جان سے گئیں، ان میں سے466انصاف کیلئے تھانوں اور عدالتوں میں چکر لگا رہی ہیں جبکہ افسوسناک معاملہ یہ ہے کہ تشدد واقعات کے صرف28مقدمات درج کئے گئے، انہوں نے کہا کہ رواں سال پنجاب بھر میں421خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ323کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر لاہور میں ہر10منٹ کے بعد ایک واردات ہو رہی ہے،پے در پے در جرائم کے واقعات کے باعث شہری سخت خوف میں مبتلا اور عدم تحفظ کا شکار ہیں،جرائم میں کینٹ ڈویژن پہلے، صدر ڈویژن دوسرے، ماڈل ٹاؤن ڈویژن تیسرے، سٹی لاہور ڈویژن چوتھے، سول لائنزپانچویں اور اقبال ٹاؤن چھٹے نمبر پر رہا آخر صورتحال کب بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 2016کے پہلے10ماہ کے دوران قتل ، ڈکیتی و چوری سمیت دیگر سنگین مقدمات کے تحت10ہزار سے زائد مقدمات درج ہوئے اور اس عرصہ میں ڈکیتی مزاحمت پر16افراد کے قتل سمیت مجموعی طور پر371افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا،

میاں محمود الر شید نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے سوال کیا کہ کب شہر لاہور کا امن واپس آئے گا اور پولیس حقیقی معنوں میں عوام دوست ہوگئی؟ لا اینڈ آرڈر کی بدترین صورتحال کے بعد اب27نومبر کو وزیر اعلیٰ صاحب جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم جاری کر رہے ہیں، آخر اتنا عرصہ خاموشی کیوں اختیار رکھی؟ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پولیس کے اعلیٰ حکام نے مقدمے کے اندراج کیلئے ہیلپ لائن کی سہولت فراہم کر رکھی ہے لیکن آج بھی سائل ایس ایچ اوز کے رحم وکرم پر ہیں، دوسری جانب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے قائم کی جانے والی فورسز ڈولفن، مجاہد سکواڈ، ایلیٹ فورس سمیت ودیگر جرائم کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں اور جرائم پیشہ کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں شہری کیا کریں؟ میاں محمود الر شید نے کہا کہ ہونا تو یوں چاہئے تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے یہ حکومت کی فائلوں میں دفن ہو گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اسی طرح


بھارت میں من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیراعظم کہا…

ریکوڈک میں ایک دن

بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…

خود کو کبھی سیلف میڈنہ کہیں

’’اس کی وجہ تکبر ہے‘ ہر کام یاب انسان اپنی کام…

20 جنوری کے بعد

کل صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی‘ صاحب…

افغانستان کے حالات

آپ اگر ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو سنٹرل ایشیا…

پہلے درویش کا قصہ

پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…

آپ افغانوں کو خرید نہیں سکتے

پاکستان نے یوسف رضا گیلانی اور جنرل اشفاق پرویز…

صفحہ نمبر 328

باب وڈورڈ دنیا کا مشہور رپورٹر اور مصنف ہے‘ باب…

آہ غرناطہ

غرناطہ انتہائی مصروف سیاحتی شہر ہے‘صرف الحمراء…

غرناطہ میں کرسمس

ہماری 24دسمبر کی صبح سپین کے شہر مالگا کے لیے فلائیٹ…

پیرس کی کرسمس

دنیا کے 21 شہروں میں کرسمس کی تقریبات شان دار طریقے…