ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

دس ہزار،بیس ہزار،تیس ہزاربھی نہیں بلکہ ۔۔۔! خیبرپختونخوامیں گزشتہ ساڑھے 3سال میں کتنے اساتذہ کو سرکاری ملازمت دی گئی؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

پشاور (آئی این پی) خیبر پختونخوا کے وزیرابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہاہے کہ اساتذہ کی کمی ہمیشہ سرکاری سکولوں کا بڑا مسئلہ رہاہے جسے مستقل بنیادوں پرحل کرنے کے لئے گزشتہ ساڑھے 3سالوں کے دوران 40ہزار اساتذہ خالصتاًمیرٹ پربھرتی کئے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اساتذہ کی مزید 15ہزار نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرزکے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش ،سکول کے پرنسپل،اوربورڈ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پرنسپل نے سکول کی کارکردگی پیش کرنے کے علاوہ سکول

کو درپیش مسائل و مشکلات کی بھی نشاندہی کی اور سکول کی کارکردگی کو ہر لحاظ سے بہتر کرنے اور صوبے کے بہترین تعلیمی درسگاہوں کا موثراندازمیں مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے تجاویز اور سفارشات پیش کیں جن کی بورڈ نے منظوری دی۔وزیر تعلیم نے پشاور پبلک سکول کے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ سکول کے معیار تعلیم پرخصوصی توجہ دیں اوراپنے غیر ضروری اخراجات حد درجہ کم کرکے فیسوں کو حقیقت پسندانہ بنائیں تاکہ والدین آسانی سے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اس لئے ہماری نئی تعلیمی پالیسی کا ہدف قوم کے جگر گوشے ہیں اور ہماری بھر پور کوشش ہے کہ کوئی بھی بچہ زیورتعلیم سے محروم نہ رہے

اور انہیں معیاری اور بامقصد تعلیم سے آراستہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ تعلیم کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ سرکاری و نجی شعبے کے اساتذہ کی حالت کار بہتر بناکر انہیں بہتر سے بہتر پیکیج دے تاکہ وہ دلجمعی اور اطمینان کے ساتھ حکومت کی وڑن کے مطابق تعلیم عام کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔ان کامزیدکہنا تھا کہ حکومت نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے اثرات بتدریج نمودارہورہے ہیں اور انشاء4 اللہ اپنی آئینی مدت پوری ہونے تک لوگ ایک واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔عاطف خان نے کہا کہ سرکاری سکولوں پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اب تک نجی تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء4 سرکاری سکولوں کا رخ کر چکے ہیں۔ہماری پوری کوشش ہے کہ اپنے سکولوں کا معیار بین الاقوامی سطح کے سکولوں کا ہم پلہ بناکر غریب کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے حصول کے یکساں مواقع فراہم کریں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…