جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف کے ساتھ ساتھ کون سی اہم ترین شخصیت کی مدت ملازمت ختم ہونےجارہی ہے ؟ بڑا نام سامنے آگیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے ’’موسٹ فیورٹ‘‘ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے والی ہے اور ان کے جانے کی خبریں ہر پاکستانی کی زبان ہر ہیں اور نیا آرمی چیف کون ہوگا ہر کوئی اس وقت بس یہی سوچ رہا ہے ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اگلے آرمی چیف کے نام کا اعلان اگلے چند ہفتوں کے دوران کسی بھی وقت متوقع ہے،نئے چیئر مین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی تعینات بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی ہوگی۔ سینئر اینکر پرسن کامران خان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے آرمی چیف کے نام کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے جس کا اعلان اگلے چند ہفتوں کے دوران کسی بھی وقت متوقع ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے قریبی ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت بھی کی،ساتھیوں نے انہیں موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مشورہ دیا تاہم نوازشریف کا موقف تھا کہ وہ موجودہ آرمی چیف کے مداح ہیں لیکن افواج پاکستان میں ترقیاں اور تقرریاں روٹین کے مطابق ہونی چاہئیں۔ کامران خان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگر کوئی انتہائی غیر معمولی واقعہ نہ ہوا تو جنرل راحیل شریف انتیس نومبر کو اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود بھی اسی روز ریٹائر ہونگے اور دونوں بڑے عہدوں پر نئی تعیناتیاں ایک ساتھ ہی کی جائیں گی۔ اس حوالے سے اگلے پچاس روز کے دوران دو لیفٹیننٹ جنرلز کو فور سٹار جنرلز کے عہدوں پر ترقی بھی دے دی جائے گی ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ پاک فوج کی ہائی کمان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کو کور کمانڈر کراچی کی ذمہ داریاں تفویض کئے جانے کے امکانات ہیں۔نجی اخبار کے مطابق کے مطابق جنرل رضوان 22 ستمبر 2014ء کو آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تھے۔ اس سے پہلے بطور میجر جنرل وہ ڈی جی رینجرز سندھ کے عہدے پر تعینات رہے اور کراچی آپریشن کو لیڈ کیا تھا۔ وہ شمالی وزیرستان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو کور کمانڈر کراچی تعینات کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ جبکہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ڈی جی آئی ایس آئی لگائے جانے کا امکان ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میجر جنرل احمد محمود حیات کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر ترقی دے کر ڈی جی آئی ایس آئی لگادیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…