ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

جس کا خدشہ تھا وہی ہوا ۔۔۔ چھوٹو گینگ بارے اہم خبر آگئی

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چھوٹو گینگ سے متعلق رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو غلام رسول چھوٹو کے دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور کسی بڑی سیاسی جماعت سے رابطوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ کچھ دن میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلام رسول چھوٹو اور اس کے 16 ساتھی خطر ناک جرائم پیشہ افراد ہیں، غلام رسول چھوٹو کے خلاف قتل سمیت ستانوے مختلف مقدمات پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں درج ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ چھوٹو گینگ کی طرح باقی گروپوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور اس کے لیے علاقے میں پولیس کو جدید اسلحہ اور خصوصی اختیارات دیے جائیں ۔ واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ اس گینگ کی پشت پناہی سیا سی حلقوں کی جانب سے کی جاتی ہے تاہم تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس بات کو جھٹلایا ہے ۔
دوسری جانب راجن پور میں جاری آپریشن کے دوران چھوٹو گینگ سے وابستہ عطااللہ پٹ گینگ کے سربراہ سمیت 4 کارندوں نے بھی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے جس کے بعد ہتھیار ڈالنے والے گینگسٹرز کی تعداد17 ہو گئی ۔پاک فوج اور پنجاب پولیس نے دریائی علاقے کچا جمال کو جرائم پیشہ افراد سے صاف کرنے کےلئے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔آپریشن کے 23ویں دن 2 روز قبل چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو نے12 ساتھیوں سمیت فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے ۔اغواءکیے گئے 24 پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق فوج کی جانب سے گینگسٹرز کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے شیلنگ کی گئی تھی، شیلنگ سے گینگسٹرز کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں میں راجن پور کے موضع کچھی عمرانی کے ایک اور گینگ کا سربراہ عطاءاللہ پٹ اور اس کے 3 ساتھی شامل تھے۔عطاءاللہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ بھی اغواءبرائے تعاوان کی کئی وارداتوں میں ملوث تھا جبکہ اس کے خلاف بھی راجن پور اور قریبی علاقوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔حکام نے بتایا کہ عطاءاللہ چھوٹو گینگ کا باقاعدہ رکن نہیں تھا بلکہ وہ 14 اپریل کو پولیس کی فائرنگ سے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کی ہلاک ہونے والی بھتیجی کی تعزیت کرنے کےلئے اس علاقے میں گیا تھا تاہم فوج کا آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ یہ علاقہ چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…