جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاک بھارت جنگ کی صورت میں ایٹمی جنگ کی صورت میں کون  کون سے شہر تباہ ہوسکتے ہیں ، سینئر صحافی کی خصوصی رپورٹ

datetime 21  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی فواد چوہدری نے پاک بھارت جنگ کی صورت میں ہونے والی ممکنہ تباہی کے متعلق اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا  ہے کہ اس صورت میں دونوں ملکوں کو کیا نقصان ہو گا۔

پروگرام میں ایک بلاگ کے حوالے سے فواد چوہدری نے ایک بلاگ کے حوالے سے جنگ کی ممکنہ اور تخیلاتی منظر کشی کی گئی ہے جس  کے مطابق بھارت کی ٹینک برگیڈز پر نیوکلئیر ٹیکٹیکل سٹرائک کی جاتی ہے جس سے بھارتی فوج جل کر کوئلہ ہو جاتی ہے ۔ بھارت کی جانب سے حملے کے لئے تین شہروں کاانتخاب کیا جا سکتا ہے جس میں لاہور، راولپنڈی اور کراچی کے شہروں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے مگر ان تینوں شہروں کا انتخاب نہیں کیا جاتا کیونکہ لاہور اور راولپنڈی پر حملے کی صورت میں بھارت کا اپنا نقصان ہوتا ہے جبکہ کراچی پر حملے کی صورت میں بڑی سویلین آبادی کے تباہ کرنے پر بین الاقوامی برادری کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذابھارت کی جانب سے ملتان پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس کے جواب میں پاکستان کی جانب نئی دہلی پر جوابی حملہ کیا جا سکتا ہے جس کے جواب میں بھارت کی جانب سے لاہور پر حملہ کیا جائے گا تخیلاتی کہانی کے مطابق لاہور اور دہلی کی تباہی کے بعد لاہور ، کراچی ، حیدر آباد،گوادر، راولپنڈی ،کوئٹہ کراچی پر ایٹمی حملے کئے جاسکتے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے جالندھر،احمد آباد ، ممبئی ، آگرہ ، اور دیگر شہر پاکستانی ایٹمی حملے کا نشانہ بنتے ہیں ۔ تخیلاتی کہانی کے مطابق اس حملے بعد پاکستان اور بھارت کی ایک بڑی آبادی ہلاک جبکہ بھارت  اور پاکستان کی باقی ماندہ کا بڑا حصہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔

یہی حقائق اور تفصیلات پروفیسر ہودبھائی کی رپورٹ میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان تباہویں کے پیش نظر بھارتی میڈیا  پر کیے جانے والے واویلے اور جنگ کے مطالبے کو چھوڑنا ہو گا جبکہ بھارت معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا ہوگاجس کی طرف وی پی سنگھ نے بھی اشارہ کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…