جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

رائے ونڈمارچ ۔۔اگرہمارے ایک کارکن کوخراش تک آئی تو۔۔۔کس طرف رخ کرینگے ، تحریک انصاف کے رہنماءکی دھمکی نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچادی

datetime 19  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور (آن لائن) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے کہا کہ آئینی ادارے اپنا کام مکمل اور ایمانداری سے کرتے تو کسی مارچ، دھرنے اور احتجاج کی ضرورت نہ پڑتی، ہر ادارے کے پاس گئے، انصاف نہ ملا، مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلے، رائے ونڈ مارچ کوئی مقدس مقام نہیں اور نہ ہی وہاں فرشتے رہتے ہیں جہاں احتجاج ریکار ڈ نہ کرایا جا سکے، رائے و نڈ احتجاج پر اعتراض کرنے والے لندن میں جمائما کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے وقت کیوں نہ شرمائے، جاتی عمرا ء کو وزیراعظم ہائوس کا درجہ حاصل ہے قوم کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، احتجاج کوئی غیر آئینی اقدام نہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ میاں محمود الر شید نے کہا کہ احتجاج پر امن ہوگا، کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی، حکومت شرارت اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے ورنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی، ایک سوال کے جواب میں میاں محمود الر شید نے کہا کہ کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے،کسی ایک کارکن کو خراش بھی آئی تو اڈا پلاٹ سے رخ تبدیل بھی کر سکتے ہیں اور کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو مقدمہ شہباز شریف پر درج کرائیں گے، ایک سوال کے جواب میں میاں محمود الر شید نے کہا کہ تب تو کوئی جان دینے نہیں آیا تھا جب مشرف نے نواز شریف کو جیل میں ڈالا تھا، پھر ملک بدر کیا تھا واپسی پر ائیر پورٹ سے ہی واپس بھیج دیا تھا آج حکومت میں آئے تو درباریوں کو غیرت یاد آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ زعیم قادری، طلال چودھری اور دانیال نوکری بچا رہے ہیں ملک پر حرف آئے تو انکی زبانیں بند ہو جاتی ہیں، عمران بولے تو جواب دینا اپنے پر واجب سمجھتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…