جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کی پشت پر کون سا ملک اور کس ملک کے سفارتکاروں سے مسلسل ملاقاتیں ہو رہی ہیں؟ راؤ انوار کو کس ملک کے سفیر کی براہ راست مداخلت پر معطل کیا گیا؟ سینئر صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 17  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور انویسٹیگیٹیو صحافی صابر شاکر نے خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری اور پھر فوری رہائی کی اصل کہانی منظر عام پر لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں امریکی دباؤ پر رہا کیا گیا جبکہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بھی امریکیوں نے ہی معطل کروایا۔

تفصیلات کے مطابا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور نسرین جلیل امریکی سفارت کاروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ہونے والی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بھی باقاعدگی کے ساتھ کراچی کے متعلق کوئی نہ کوئی بیان شامل ہوتا ہے، کیونکہ الطاف حسین بھارت، برطانیہ اور امریکہ کا مشترکہ کھلاڑی ہے جس کے پاکستان سے بے دخل ہونے کے بعد اب ان ممالک کی کراچی کی صورت حال میں دلچسپی بہت بڑھ گئی ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے انکشاف کیا کہ چند روز قبل فاروق ستار کی امریکی کوننسلر جنرل سے ملاقات کے اگلی ہی روز امریکی سفیر کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا، اور قومی اداروں کی جانب سے ایم کیو ایم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو حکومتی سطح سے روکنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے نیب کی جانب سے ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کے آغاز پر وزیراعظم کے بیان کا حوالہ بھی دیا کہ شریف لوگوں کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔ اس موقع پر صابر شاکر کا کہنا تھا کہ راؤ انوار 92 میں ایم کیوایم کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بعد سے بچ جانے والے اب آخری پولیس افسر ہیں ، ان کے ذاتی کردار سے قطع نظر موجودہ صورتحال میں خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری انہوں نے بالکل میرٹ پر اور صحیح کارروائی کرتے ہوئے کی ہے کہ کیوں کہ ایم کیو ایم کی کارروائیوں اور سرگرمیوں کے بارے میں وہ باقی پولیس افسران سے بہت بہتر جانتے ہیں جبکہ اس ایشو پر تو پولیس کے دیگر سینئر حکام کی جانب سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ خواجہ اظہار کی گرفتاری بالکل درست ایشو پر ہوئی تھی۔ جس کے فوری بعد وزیراعلیٰ نے ایس ایس پی راؤ انوار کو فوری طور پر معطل کر دیا اور وزیر اعظم نے بھی اس سلسلے میں فوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا صابر شاکر کا کہنا تھا کہ اگر قومی اداروں کو کارروائیوں سے روکا گیا تو اتنی محنت کے بعد جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں ان سب کے ضائع ہونے کا احتمال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…