بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان میں نئی تاریخ رقم ‘دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی

datetime 18  اگست‬‮  2016 |
QUETTA: Workers of all political parties hold anti Indian rally. INP PHOTO by Adnan Ahmed

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بلوچستان سے متعلق بیان کے خلاف کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں شہریوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ کوئٹہ کے لا کا لج میں مودی کے حالیہ بیان کے خلاف مذمتی ریفرنس کے حوالے سے منقعدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے بول رہا ہوں کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں “را” ملوث ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ ہم بلوچستان کے وارث ہیں ، بھارت نے یہاں جو جنگ شروع کی ہے اس کے فاتح ہم ہونگے۔ان کا کہنا تھا بھارت کا حاضر سروس ایجنٹ کا بلوچستان سے پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ براہمداغ بگٹی کے عزائم صوبہ میں خون کی ندیان بہنے کے ہیں۔ چند ٹکوں کے لیے دشمن ملک اور مودی کی غلامی قبول کرنے والے براہمداغ بگٹی کو چیلنج کرتا ہوں کہ صوبہ میں پاکستان کے خلاف 50 لوگوں کو جمع کر لے ، نام نہاد آزادی کی تنظیمیں چلانے والوں کو ایک فیصد بھی عوام کی حمایت حاصل نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں آج مودی کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ یہاں کے وارث وہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانیاں دی ہے جو اب تک ملک پر قربان ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کشمیر اور بلوچستان کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ یہاں لوگ آزاد ہیں انہیں آزادی رائے کی اجازت ہے۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شہدا کے لہو کی قسم دہشتگردوں کو ان کے بلوں سے نکال کر ماریں گے اور جب تک ایک بھی دہشت گرد ہیں ان کے خلاف جنگ جاری ہے گی۔ نام نہاد قوم پرست اور کالعدم تنظیموں کے سربراہاں خود باہر کے ممالک میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم یہاں کے معصوم لوگوں بلوچ قوم کے نام پر اکسا کر اپنے ہی لوگوں کا لہو بہا رہے ہیں۔دوسری طرف بلوچستان کے عوام نے نریندر مودی کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور مودی کے بیان کے خلاف سبی میں ریلی نکالی گئی ، ریلی میں ہندو برادری کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ دالبندین کے شہری بھی بھارتی وزیراعظم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آگئے۔چمن میں متحدہ قبائل نے احتجاجی ریلی نکالی جو پاک افغان بارڈر پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکاء نعرے بازی کرتے رہے۔ نوشکی میں نکالی گئی احتجاجی ریلی میں پتلا بھی جلایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…