منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ،مفتی عبدالقوی بہت کچھ بول پڑے

datetime 16  جولائی  2016 |

لاہور( این این آئی)ماڈل گرل قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفیاں سامنے آنے سے شہرت حاصل کرنے والے مفتی عبد القوی نے کہا ہے کہ قندیل بلو چ کی معذرت کے بعد میں نے انہیں معاف کر دیا تھا ، ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ انکے بھائی نے غیرت کے نام پر ان کا قتل کیا ہے اور غیرت کے بھی تقاضے ہوتے ہیں،میں ان خواتین اور باقی لوگوں کو بھی پیغام دوں گا کہ وہ کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اپنے رد عمل میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ محترمہ جب میرے پاس آئی تھیں تو میں نے سب سے پہلے یہی کہی تھی آپ کے دل میں کلمہ طیبہ ہے اور اس کلمہ کے نور کی روشنی میں اپنی زندگی اور اپنے معاملات کو درست کریں اور رزق رب العالمین نے دینا ہے ، میں نے ان کیلئے دعا بھی کی تھی ۔ اس کے بعد انہوں نے سیلفیاں وغیرہ بنائیں اور جب میں رات کو اپنے ہوٹل واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ محترمہ نے کہا کہ مفتی عبد القوی نے جھوٹ بولا ۔جب میں ملتان پہنچا تو ا نکے پانچ پیغامات آئے اور میں نے وہ تمام پیغامات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دئیے اور انہوں نے کہا کہ یہ سب میری غلطی ہے اور میں اس پر پشیمان ہوں ۔ بڑے حضرات معاف کر دیتے ہیں اور آپ مجھے معاف کر دیں ۔ میں نے ملتان میں پریس کانفرنس کی اور وہاں میں نے دو باتیں کی تھیں کہ میں اللہ کیلئے ان کو معاف کر دیا ہے البتہ میرے جو پیرو کار ہیں اور دنیا بھر سے دوستوں کے جو فون آئے اورانکے دل دکھے ہیں اس لئے میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ،البتہ میں نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ قندیل بلوچ کی طرف سے ان سے خطرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ میں پر امن آدمی ہوں ،میڈیا گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے بلکہ اگر کسی عالم کی طرف سے منفی بات بھی سامنے آئی ہو تو میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے ، امن کے حوالے سے ہمارے خاندان نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر بہت افسوس ہے کہ کیونکہ اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ ایک جان کا قتل انسانیت کا قتل ہے ۔ انہوں نے قندیل بلوچ کے قتل کی مذمت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ بظاہر انکے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے اورپاکستان کے قانون اور شریعت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ رب العالمین کہتے ہیں کہ سب سے غیرتمند میں اللہ ہوں ، غیرت کے بھی تقاضے ہیں اور یہ ان کا خانگی معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں باقی خواتین اور ان لوگوں کو بھی پیغام دوں گاکہ وہ آئندہ کے لئے کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم اور اہل فتویٰ پر الزام لگائیں تو محترمہ کے انجام کو ذہن میں رکھیں اور آئندہ ایسی گفتگو نہ کریں جس سے اہل دین ،اہل علم یا اہل فتویٰ کی توہین ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…