پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

این اے 110 ،’’چائے‘‘ کا معاملہ،حیرت انگیز انکشاف،انتخابی عمل مشکو ک ،صورتحال واضح ہوگئی

datetime 8  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 110 کے 29 پولنگ اسٹیشنز کے گمشدہ ریکارڈ کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔قومی اسمبلی کے حلقے این اے 110 کے گمشدہ ریکارڈ سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہوئی۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کرپشن ملک میں ہونے والی کرپشن کی بنیاد ہے ٗ70سال میں الیکشن کمیشن کاایک افسر بھی گرفتار نہیں ہوا ٗ الیکشن سے ایک روز قبل خواجہ آصف نے ریٹرننگ افسران کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا تھا ٗ خواجہ آصف کی جانب سے ریٹرننگ افسران کو گھر پر چائے پر بلانے کا نوٹس لیا جائے ٗچیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو ریٹرننگ افسران کو چائے پر بلانے کی بھی رپورٹ طلب کریں گے۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ این اے 110 میں 5 پولنگ اسٹیشنز کے کاؤنٹر فائلز کے علاوہ تما م ریکارڈ غائب ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کا غائب ہوناانتخابی عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے، کوئی بھی الیکشن کمیشن کا ریکارڈ غائب کر دے تو دوبارہ الیکشن کا کھیل آسان ہوجائیگا ٗ الیکشن کمیشن 29 پولنگ اسٹیشن کے ریکارڈ کے لئے حلقے کھول سکتا ہے، این اے 110 کے 29 پولنگ اسٹیشنز کا گمشدہ ریکارڈ تلاش کر کے ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بابر اعوان سے دوران مکالمہ کہا کہ الیکشن کا دن اتنا پرسکون نہیں ہوتا جیسی یہ اے سی والی عدالت ہے، ایک ریٹرننگ افسر نے تو الیکشن ڈے کو قیامت صغریٰ کا نام دے دیا تھا، اگر آپ کو رپورٹ پر اعتراض ہے تو اسے ضائع کردیتے ہیں۔ بابر اعوان کا اپنے جواب میں کہا تھا کہ انہیں رپورٹ پر مکمل اعتماد ہے لیکن سوال کرنا میرا قانونی حق ہے۔ سپریم کورٹ نے نادرا رپورٹ میں شناختی نمبر کی جگہ کراس کا نشان لگانے کی بھی رپورٹ کی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 13 مئی 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 110 سے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کامیاب قرار پائے تھے تاہم پھر تحریک انصاف کی جانب سے جن 4 حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ان میں این اے 110 بھی شامل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…