کراچی(این این آئی)روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حکمت عملی کچھ اورہوگئی ،حکومت سندھ نے اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں رقم مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر ایک لاکھ سے زائد کنٹریکٹ اورعارضی ملازمین کومستقل کرنے کا بھی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے اپنے د ورحکومت میں بھرتی کردہ چھبیس ہزارسرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں بھی رقم مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت نے محکمہ بلدیات ،تعلیم اورصحت میں اخبارات میں اشتہارات کے بعد چھبیس ہزارسے زائد ملازمین بھرتی کیے ۔محکمہ بلدیات کے تیرہ ہزار،تعلیم کے سات ہزاراورمحکمہ صحت کے چھ ہزارملازمین کو دوہزاربارہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ۔ پہلے ان ملازمین کی بھرتیوں پراعتراض کیا گیا پھران کی تعلیمی اسناد کوجعلی قراردیا گیا تاہم جب وزیراعلی سندھ کی انشپیکشن ٹیم اورحکومت سندھ کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے بھرتی کیے گئے ملازمین کی تعلیمی اسناد چیک کرائیں تو اٹھانوے فیصد ملازمین کی اسنا د درست ثابت ہوئیں اوربھرتی کا طریقہ کارقوانین کے مطابق پایا گیا اس دوران سی ایم انسپیکشن ٹیم نے سفارش کی کہ مستقل اسامیوں پربھرتی ہونے والے ملازمین کوفوری تنخواہیں جاری کی جائیں تاہم پیپلزپارٹی کی ایک طاقتورخاتون رہنماء کے کہنے پرملازمین کی تنخواہیں روک لی گئیں اورگذشتہ تین برس سے ملازمین تنخواہوں کے لیے دربدرہیں۔ بھرتی کیے جانے والے ملازمین کی تعلیمی اسناد کے لیے حکومت سندھ نے سندھ بینک کے پے آرڈرپرتعلیمی اسناد طلب کرکے متعلقہ تعلیمی بورڈ زکو تصدیق کے لیے ارسال کی تھیں۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی اجازت نہیں دی اس لیے نئے بجٹ میں بھی ملازمین کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے اجازت نہ ملنے پرتنخواہیں جاری کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہ کیا جاسکا اسطرح دوہزاربارہ سے تنخواہوں کے لیے دربدر حکومت سندھ کے چھبیس ہزارملازمین کوآئندہ مالی سال میں بھی دربدرہونا پڑے گا۔دوسری جانب دوہزارتیرہ میں حکومت سندھ نے صوبے کے ایک لاکھ سے زائد عارضی اورکنٹریکٹ پربھرتی کیے گئے ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظورکرایا مگران کی مستقلی کا سندھ حکومت کے نویں بجٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق ملازمین کومستقل کرنے کا معاملہ وزیراعلی ہاؤس میں منظوری کا منتظرہے منظوری ملنے کے بعد ہی ملازمین کومستقل کیے جانے اوران کی تنخواہوں اورمراعات سے متعلق بجٹ مختص کیا جائے گا جبکہ وزیراعلی ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی اورکنٹڑیکٹ ملازمین کومستقل کرنے کا حتمی فیصلہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے کرنا ہے جس کے بعد ہی کوئی پیش رفت ممکن ہے۔
26ہزار ملازمتیں ختم،ایک لاکھ ملازمین کے سرپر بھی تلوارلٹک گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































