اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

26ہزار ملازمتیں ختم،ایک لاکھ ملازمین کے سرپر بھی تلوارلٹک گئی

datetime 8  جون‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حکمت عملی کچھ اورہوگئی ،حکومت سندھ نے اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں رقم مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر ایک لاکھ سے زائد کنٹریکٹ اورعارضی ملازمین کومستقل کرنے کا بھی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے اپنے د ورحکومت میں بھرتی کردہ چھبیس ہزارسرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں بھی رقم مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت نے محکمہ بلدیات ،تعلیم اورصحت میں اخبارات میں اشتہارات کے بعد چھبیس ہزارسے زائد ملازمین بھرتی کیے ۔محکمہ بلدیات کے تیرہ ہزار،تعلیم کے سات ہزاراورمحکمہ صحت کے چھ ہزارملازمین کو دوہزاربارہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ۔ پہلے ان ملازمین کی بھرتیوں پراعتراض کیا گیا پھران کی تعلیمی اسناد کوجعلی قراردیا گیا تاہم جب وزیراعلی سندھ کی انشپیکشن ٹیم اورحکومت سندھ کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے بھرتی کیے گئے ملازمین کی تعلیمی اسناد چیک کرائیں تو اٹھانوے فیصد ملازمین کی اسنا د درست ثابت ہوئیں اوربھرتی کا طریقہ کارقوانین کے مطابق پایا گیا اس دوران سی ایم انسپیکشن ٹیم نے سفارش کی کہ مستقل اسامیوں پربھرتی ہونے والے ملازمین کوفوری تنخواہیں جاری کی جائیں تاہم پیپلزپارٹی کی ایک طاقتورخاتون رہنماء کے کہنے پرملازمین کی تنخواہیں روک لی گئیں اورگذشتہ تین برس سے ملازمین تنخواہوں کے لیے دربدرہیں۔ بھرتی کیے جانے والے ملازمین کی تعلیمی اسناد کے لیے حکومت سندھ نے سندھ بینک کے پے آرڈرپرتعلیمی اسناد طلب کرکے متعلقہ تعلیمی بورڈ زکو تصدیق کے لیے ارسال کی تھیں۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی اجازت نہیں دی اس لیے نئے بجٹ میں بھی ملازمین کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے اجازت نہ ملنے پرتنخواہیں جاری کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہ کیا جاسکا اسطرح دوہزاربارہ سے تنخواہوں کے لیے دربدر حکومت سندھ کے چھبیس ہزارملازمین کوآئندہ مالی سال میں بھی دربدرہونا پڑے گا۔دوسری جانب دوہزارتیرہ میں حکومت سندھ نے صوبے کے ایک لاکھ سے زائد عارضی اورکنٹریکٹ پربھرتی کیے گئے ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظورکرایا مگران کی مستقلی کا سندھ حکومت کے نویں بجٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق ملازمین کومستقل کرنے کا معاملہ وزیراعلی ہاؤس میں منظوری کا منتظرہے منظوری ملنے کے بعد ہی ملازمین کومستقل کیے جانے اوران کی تنخواہوں اورمراعات سے متعلق بجٹ مختص کیا جائے گا جبکہ وزیراعلی ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی اورکنٹڑیکٹ ملازمین کومستقل کرنے کا حتمی فیصلہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے کرنا ہے جس کے بعد ہی کوئی پیش رفت ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…