پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

اوپی ایف بورڈ آف گورنرنے بیرون ملک وفات پانے اور معذور ہوجانے والے پاکستانیوں کے لواحقین کیلئے اہم اعلان کردیا

datetime 7  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)اوپی ایف بورڈ آف گورنرنے بیرون ملک وفات پانے اور معذور ہوجانے والے پاکستانیوں کے لواحقین کے لئے مالی امداد کی رقم 2لاکھ 50ہزار سے بڑھا کر4لاکھ روپے فی خاندان کرنے کی منظوری دیدی ، سمندر پار پاکستانیوں اور ان کے لواحقین کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہاؤسنگ اور فلاح وبہبود کے شعبہ جات کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ائیر پورٹ پر مزید سہولیات کی فراہمی اور شکایات کے ازالے کے لئے پاکستان میں تمام ایئر پورٹس پر واقع اوپی ایف کاؤنٹرز کی استعداد کار میں اضافہ کیاجائے گا۔بورڈ کے ممبران نے اوپی ایف ہاؤسنگ سکیم ویلی زون فائیو اسلام آباد پر جاری ترقیاتی امور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی ہے۔اوپی ایف بورڈ آف گورنر کا 132واں اجلاس چیئرمین بیرسٹر امجد ملک کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں وزیر مملکت برائے نجکاری محمد زبیر،وفاقی سیکرٹری وزارت سمندر پارپاکستانیز وترقی انسانی وسائل خضر حیا ت خان،منیجنگ ڈائریکٹر اوپی ایف حبیب الرحمن خان، کیپٹن ریٹائرڈ شاہین خالد(امریکہ)،چوہدری نورالحسن تنویر(یواے ای)،محمد جہانگیر منہاس (آزاد جموں وکشمیر)، صاحبزادہ سعید احمد،ڈاکٹر عرفان یوسف شامی ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ،حق نواز ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ اور اسد حیا ء الدین ایڈیشنل سیکرٹری کامرس ڈویژن نے شرکت کی۔منیجنگ ڈائریکٹر اوپی ایف حبیب الرحمن خان نے اجلاس کے شرکاء کو سمندر پارپاکستانیون اور ان کے اہل خانہ کے لئے فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس کے دورن یہ محسوس کیا گیا کہ ملکی معیشت کی بہتری میں سمندر پارپاکستانیوں کو کلیدی کردار حاصل ہے اس لئے موجودہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اوران کی توانائیوں کو بروے کار لاتے ہوئے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا چاہتی ہے۔ بورڈ کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی تعمیر وترقی میں اہم کردار اداکر رہے ہیں اس لئے وہ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سمندر پارپاکستانیوں کے اہل خانہ کو درپیش مسائل کا حل اور انہیں زیاد ہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…