اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ کی بحث آغاز کے پہلے روز ہی کورم پورا نہ ہونے پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ تقریر کرنے انکار کر دیا اور سپیکر سے کورم مکمل ہونے تک اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا سپیکر کی طرف سے مطالبہ تسلیم نہ کئے جانے پر پیپلز پارٹی نے کورم پورا ہونے کی نشاندہی کر دی جس پر سپیکر نے قورم مکمل ہونے تک اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی اس سے قبل تلاوت قرآن پاک اور نعت کے بعد سابق وفاقی وزیر عبد المجید ملک اور عظیم باکسر محمد علی کے انتقال پر ایوان میں دعا کی گئی دعا کے بعد سپیکر نے سید خورشید شاہ کو نئے مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز کرنے کی دعوت دی جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ ایوان میں میں ارکان کی بہت کم تعداد ہے اور کورم بھی پورا نہیں ہے ایوان میں اتنے ارکان تو آ جائیں تاکہ کورم تو پورا ہو تو وہ بحث کا آغاز کریں گے ۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ کورم پورا ہونے تک اجلاس کی کارروائی ملتوی کی جائے میں کورم کی نشاندہی نہیں کر رہا یہ بڑا اہم دن ہے لہذا ارکان کے آنے تک کارروائی ملتوی کی جائے کورم پورا کرنا حکومت کا فرض ہے اس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے خورشید شاہ سے کہا کہ پاکستانی عوام آپ کو سننے کیلئے تیار ہے میری گزارش ہے کہ آپ بحث کا آغاز کریں لوگ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہونگے اور ریڈیو کے ساتھ کان لگا کر بیٹھے ہونگے کہ آپ کو سن سکیں اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ عوام یہ بھی دیکھ اور سن رہے ہوں گے کہ گرمی سردی میں قطاروں میں لگ کر جن کو ووٹ دیئے ہیں وہ ایوان میں نہیں آتے ایوان میں حکومت کے صرف پندرہ سولہ ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن کے 30-35 لوگ موجود نہیں انہوں نے کہا کہ میں بجٹ پر بحث کیلئے جو پوائنٹس لے کر آیا ہوں وہ سپیکر کو جمع کروا دیتا ہوں بہتر ہے کہ سپیکر انہیں پڑھ کر ایوان کی کارروائی میں ڈال دیں اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ خورشید شاہ کا نواسہ رسول ہونے کی وجہ سے احترام کرتے ہیں اجلاس پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کر دیں اور چار بج کر 40 منٹ پر ملتوی کر یں پھر لوگ ہوں یا نہ ہوں اجلاس کی کارروائی شروع کی جائے اس پر سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ نواسہ رسولﷺ کا ہم بھی احترام کرتے ہیں ایوان کو مرضی سے نہ چلایا جائے جس کو تقریر کرنے ہے وہ کرے جس کو نہیں کرنی وہ نہ کرے ہم لوگ بیگار کاٹ کر نہیں آئے ووٹ لے آئے ہیں جو استدعا جائز ہو گی وہ کرنی چاہئے یہ طریقہ اسمبلی چلانے کا نہیں ہے سپیکر اپنا اختیار استعمال کریں اس پر سپیکر نے سید خورشید شاہ سے کہا کہ آپ کورم پوائنٹ آؤٹ کریں یا تقریر شروع کریں اس دوران تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے مداخلت کی تو سپیکر نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ جس طرح آپ بات کرنا چاہتی ہیں وہ طریقہ درست نہیں سپیکر نے پیپلز پارٹی کے عبد الستار بچانی کو بات کرنے کی اجازت دی تو عبد الستار بچانی نے کورم کی نشاندہی کر دی سپیکر نے گنتی کا حکم دیا اور کورم کی نشاندہی کر ددی سپیکر نے گنتی کا حکم دیا اور کورم پورا نہ ہنے پر اجلاس کی کارروائی کورم مکمل ہونے تک ملتوی کر دی پندرہ فٹ بعد اجلاس شروع ہوا تو ارکان کی دوبارہ گنتی کی گئی اور کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کارروائی شروع کر دی سید خورشید شاہ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کر دیا۔
قومی اسمبلی ،بجٹ کی بحث آغاز کے پہلے روز ہی حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(آخری حصہ)
-
تنخواہوں میں اضافے کی تیاری، 120 فیصد تک الاؤنس کی تجویز
-
ملک میں سردیوں کی آمد کب ہوگی؟ شدید سردی کا دورانیہ 50 روز تک محدود ہونے کا انکشاف
-
دنیا بھر میں وقت کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ
-
ون ڈے کرکٹ میں ریورس سوئنگ کی واپسی، بیٹرز کیلیے مشکلات بڑھ گئیں
-
لائبہ سے لاکھوں کا فراڈ کرنے والا مرکزی ملزم نعمان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک
-
عامر لیاقت نازیبا ویڈیو کیس، دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
-
بابراعظم نے ون ڈے میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی ٹیم میں شامل؟ کرکٹ کا نیا ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ فارمیٹ متعارف
-
رکشے میں بیٹھی دو بہنوں کا قتل، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا
-
رجب بٹ کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
-
پاکستان میں سولر پینلز کی نئی قیمتیں سامنے آگئیں
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































