پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا جن بے قابو

datetime 5  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ملک بھر میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور متحرک ہو گئے ہیں جب کہ رمضان بچت بازار بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہیں جس کے باعث اشیائے خوردونوش غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے جب کہ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے بھی مہنگائی سے پریشان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، دالوں اور گوشت سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے ہیں جب کہ رمضان بچت بازار بھی عوام کو خاطر خواہ ریلیف دینے میں ناکام ہیں
۔کراچی کے اتوار بازاروں میں کیلا 80 روپے درجن، پپیتہ 70روپے کلو، سندھڑی آم 91، چونسا آم 100 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے کہ آلو25، پیاز 25، ٹماٹر 45، لیموں 220، لہسن 170، کھیرا 50، ادرک 90، ہری مرچ 100، دھنیا اور پودینا 5 سے 10 روپے فی گڈی میں فروخت کیا جا رہا ہے۔لاہور کے رمضان بچت اور عام بازاروں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں صرف ایک روپے کا فرق ہے، رمضان بازار میں آلو کی قیمت 26جب کہ عام بازار میں 27 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ رمضان بازاروں میں 10 کلو آٹے کا تھیلا 290 روپے، باسمتی چاول 75 روپے فی کلو، دال مسور 122 فی کلو، دال ماش دھلی ہوئی 244 فی کلو، دال مونگ 130 روپے فی کلو، کالے چنے 120 روپے فی کلو جب کہ سفید چنے 160 روپے فی کلو میں فورخت ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان بازاوں میں بیسن کی قیمت 135 روپے فی کلو جب کہ چینی 55 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔
سکھر میں پھلوں اور سبزیوں میں ایک دم اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ آم 120 روپے فی کلو سے بڑھ کر 150 تک پہنچ گئے ہیں جب کہ کھجور 300 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر بڑے شہروں میں بھی ذخیرہ اندوزوں نے عوام سے منہ مانگے دام وصول کرنے شروع کر رکھے ہیں۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…