نئی دہلی (آئی این پی)بھارت نے صدر ممنون حسین کے کشمیر سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر نہیں بلکہ نئی دہلی کے اندرونی معاملات میں ہمسایہ ملک کی بار بار مداخلت اور بیرونی دہشتگردی ہے،پاکستان جموں وکشمیر کے کچھ حصوں پر غیر قانونی قبضے کو ختم کرے اور ان علاقوں کے لاکھوں لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے۔جمعرات کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ نے پاکستانی صدر ممنون حسین کے کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کے دوران کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کشیدگی کی بنیادی وجہ نہیں ہے ،ہمارے خطے میں امن کی کمی اور مسلسل عدم استحکام کی بنیادی وجہ بیرونی دہشتگردی اور پاکستان کی بار بار بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے ۔وکاس سوراپ نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے کے عالمی جہتوں کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں ،کشمیر کے مسئلے کی کوئی عالمی جہتیں نہیں ہیں ، دوطرفہ معاملے کو بین الاقومی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان جموں وکشمیر کیکچھ حصوں پر غیر قانونی قبضے کو ختم کرے اور ان علاقوں کے لاکھوں لوگوں کی مشکلات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرے ۔
بھارت کا صدر ممنون حسین کے کشمیر سے متعلق بیان پر واویلا، خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر نہیں بلکہ …….
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































