اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ارکان پارلیمنٹ کی انوکھی روایت‘ قومی خزانے کو ہر بار کروڑوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے‘ روایت کے مطابق جب کوئی رکن پارلیمنٹ وفات پا جاتا ہے تو ارکان اسمبلی کے تعزیت کیلئے اٹھنے والے اخراجات کا تمام بوجھ قومی خزانے پر ڈالا جاتا ہے، ارکان پارلیمنٹ کی اس انوکھی روایت کی ابتداء کب ہوئی یہ کسی کو معلوم نہیں ، البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس روایت کی ابتداء 1980 ء سے ہوئی، روایت کے مطابق وفات پا جانے والے رکن پارلیمنٹ کی وفات کے بعد جو بھی پہلا اجلاس ہوگا اس میں سوائے فاتحہ خوانی اور اظہار تعزیت کے باقی کوئی کارروائی نہیں ہوگی، ایک اندازے کے مطابق پارلیمنٹ کے ہر اجلاس پر تقریباََ 4کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے ‘ اس طرح وفات پا جانے والے رکن پارلیمنٹ سے تعزیت کیلئے منعقدہ اجلاس میں تمام ارکان اسمبلی کا ٹی اے ، ڈی اے اور دیگر اخراجات قومی خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں جس سے ملک و قوم کا بھاری نقصان ہوتا ہے۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے علاوہ تمام صوبائی اسمبلیاں بھی سختی سے اس مہنگی ترین روایت پر عمل پیرا ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ کی انوکھی روایت‘ قومی خزانے کو ہر بار کروڑوں کا ٹیکہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص
-
وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ٹویوٹا نے اپنی مشہور گاڑی کی قیمت میں 25 لاکھ روپے کی کمی کر دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا
-
ننکانہ صاحب میں شوہر کا ادویات کھا کر اہلیہ سے مبینہ غیر فطری جنسی عمل، ساس نے اندراج مقدمہ کی درخو...
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی؟ ماہر فلکیات کی اہم پیشنگوئی
-
اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ججز کے نوٹیفکیشن کے بعد نئی پیشرفت
-
الیکشن کمیشن نے دو سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن ختم کردی
-
راولپنڈی میں طالبعلم کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے والے دو ملزم مقابلے میں ہلاک
-
وزیراعظم نے معاشی طور پر کمزور طبقے کو بڑی خوشخبری سنادی
-
نوجوانوں میں غذائی نالی کے کینسر کی شرح بڑھ رہی ہے، ماہرین صحت نے وجہ بھی بتا دی
-
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
-
راولپنڈی، مدرسے کے استاد کی 14سالہ طالب علم سے بدفعلی
-
شوہر نے دوسری شادی کے لیے جواری کو پیسے دے کر بیوی کو راستے سے ہٹوا دیا، واقعے سے پہلے زیادتی بھی کی...



















































