پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی بھی سڑکوں پر ،اعلان کردیاگیا

datetime 31  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس پر قائم کی گئی کمیٹی پر قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور اس معاملے کا جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچنا نہایت ضروری ہے ، انصاف، جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تقدس کی خاطر ہم نے مذاکرات کا بہتر راستہ چنا ہے لیکن اب یہ حکومتی رویے پر منحصر ہے کہ وہ پانامہ لیکس کا فیصلہ پارلیمنٹ میں کرنا چاہتی ہے یا کہ سڑکوں پر۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اگر ٹی او ارز پر حکومتی رویہ یہی رہا تو پھر ٹی او ارز پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مہینوں کا عرصہ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں تاخیری حربے حکومت کی نادانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس میں تاخیر خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بات حکومتی ارکان پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات میں پیدا شدہ ڈیڈ لاک کی صورت حال کو کب اور کیسے ختم کرتی ہے۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ جب کسی کے لباس پر داغ لگ جائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس داغ کو جلد از جلد دھو ڈالے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے اور حکومت پانامہ لیکس کے داغ دھونے کی بجائے ان داغوں کے ساتھ ہی جینے میں خوش نظر اتی ہے۔اور حکومت کے اس رویے سے عوام میں پایا جانے والا یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس پر حکومتی ارکان کو جلد اپنا رویہ درست کر لینا چاہئے اور تاخیر کی بجائے تدبیر سے کام لینا چاہئے تاکہ ہم اس معاملے کو جلد از جلد عوام کی خواہش اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…