بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کے مقدمات اور فیصلوں کا مفصل ریکارڈ طلب کرلیا

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کے مقدمات اور فیصلوں کا مفصل ریکارڈ طلب کرلیا ۔پیر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی طرف سے ان سزاؤں کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی۔پاکستان کے چیف جسٹس نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے پانچ قیدیوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جو مجرمان ملکی آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر وہ ان سزاؤں کے خلاف قانون کا سہارا کیسے لے سکتے ہیں؟عدالت نے کہاکہ دہشت گردی کو عام جرم کے طور پر نہ لیا جائے بلکہ بعض ملکوں میں تو ایسے افراد کو عدالتوں سے سزائیں ملنے کے بعد بلا تاخیر تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔عاصمہ جہانگیر نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ملزموں کو فیئر ٹرائیل کی اجازت نہ دینے سے دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔بینچ میں شامل جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں ملکی قوانین کے تابع ہیں اور تمام ملکی ادارے آئین کے تحت کام کر رہے ہیں۔بینچ کے سربراہ نے کہاکہ فوجی عدالتیں اب جو کام کر رہی ہیں انھیں ایک آئینی شق کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔اْنھوں نے کہا کہ ملکی آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شخص آئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ان درخواستوں کی سماعت چھ اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…