بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

این اے 267سے میرہمایوں عزیز کرد اور اسد اللہ رئیسانی مومن کرد غیر مشروط طور پر میر خالد مگسی کے حق میں دستبردار ہوگئے

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

بولان (نیوز ڈیسک) سابق سینیٹر حاجی لشکری رئیسانی کی صدارت میں حلقہ این اے 267ضمنی الیکشن کے سلسلے میں مہر گڑھ میں گرینڈ جرگہ کا انعقاد۔این اے 267کے امیدوار پر نوابزادہ خالد خان مگسی متفقہ امیدوار نامزد۔سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد،نوابزادہ اسد اللہ رئیسانی،مومن کرد مسلم لیگ (ن) کے امیدوارنوابزادہ میر خالد مگسی کے حق میں دستبردارہوگئے۔تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے 267کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں گزشتہ روز سابق سینیٹرنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی صدارت میں کچھی کم جھل مگسی گرینڈ جرگہ مہر گڑھ میں منعقد ہوا جس میں اراکین صوبائی اسمبلی میر محمد عاصم کرد گیلو ،میر ماجد ابڑو،اور دیگر قبائلی عمائیدین کی بڑی تعداد شریک تھے۔ باہمی صلاح مشورے کچھی جھل مگسی کے عوام کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد،نوابزادہ اسد اللہ خان رئیسانی،میر مومن کرد پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نامزد امیدوار نوابزادہ میر خالد مگسی کی حمایت میں دستبردار ہو گئے اس موقع نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ یہاں پر خاص طبقہ فکر کیلئے حکومتیں بنائی جاتے ہیں کچھی کے عوام مشترکہ فیصلوں کے ذریعے ظلم بربریت کے سیاست کو ختم کرنے کیلئے قمر بستہ ہوں عوام کے مفادات کے تحفظ اور صحیح فیصلے کرنے سے حلقہ میں خوشحالی کی لہر آئیگی ضمنی الیکشن میں ہم نے ایک ایسے شخص کی حمایت کی ہے جو نہ صرف امن پر ست ہے بلکہ خدا پرست بھی ہے صوبے میں امن کیلئے تمام قبائل کو ایک ساتھ ملکر سوچنا ہوگا تاکہ بلوچستان کے عوام کو پر امن اورترقی یافتہ بنانے کیلئے جو کوشیش کی جارہی ہیں انکو منزل مقصود تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ صوبے میں نفرت کے جو بیج بوئے گئے تھے جن کیلئے ذاتی مفادات کو پروان چڑھاکر عوام کی حقوق کی خلاف ورزی سب کے سامنے ہے اس طرح کے ہتھکنڈے بلوچستان کے عوام سے دور نہیں کر سکتے مخصوص ٹولہ آج بھی بلوچستان کے مفادات کے خلاف بر سرپیکار ہیں انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…