بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

داﺅدخیل میں دیوار پر گھوڑے کے نقش نے پورے ملک میں ہل چل مچا دی

datetime 22  مارچ‬‮  2016 |

داﺅدخیل (نیوزڈیسک) داﺅدخیل میں دیوار پر گھوڑے کے نقش نے پورے ملک میں ہل چل مچا دی‘ کسی نے ذوالجناح‘ کسی نے غازی عباس ؑتصور کرکے اس پر منتیں اور نیازوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا-تفصیلات کے مطابق داﺅدخیل میں چند روز پہلے داﺅدخیل کے کونسلر غضنفر اللہ خان کی اینٹیوں کی بھٹی میں استعمال ہونے والے ایندھن (لکڑیاں )میں آگ بھڑک اٹھی آگ کے شعلوں نے لاکھوں کا ایندھن چند گھنٹوں میں راکھ کر دیاآگ سے ایندھن کے نزدیک کھڑی دیواروں کو بھی نقصان پہنچااور فائربریگیڈ نے کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا اس واقعے کے بعد گزشتہ روز اس رکھ کے ڈھیر کے قریب ساتھ دیوار پر اچانک واضع طور پر گھوڑے کا نشان ظاہر ہو گیاجس سے پورے ملک میں ہل چل مچ گئی لوگوں کے قافلے جوق در جوق زیارت کرنے کیلئے پہنچنے شروع ہو گئے جبکہ صدقہ نیاز کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہو گیا کئی لوگوں نے اس گھوڑے کے نشان کو ذوالجناح کا نام دیکر عقیدت کے طور پر سلام کرنا اور چومنا شروع کر دیا جبکہ کئی لوگوں نے اس نقش کو غازی عباس کے گھوڑے کا نام دے کر منتیں اورصدقہ نیاز دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔بتایا جاتا ہے کہ جب بھٹی کے ایندھن کو آگ لگی تو ساتھ ہی مکان پر ایک علم لگا ہوا ہے آگ سے مکان کو کافی نقصان پہنچا لیکن علم صحیح سلامت کھڑا رہا جس کے بعد اسی مکان کی دیوار پر گھوڑے کا نشان ظاہر ہو گیاجس سے پورے ملک سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…