بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پرویز مشرف کا فرار ان کا حکومت پر احسان کا صلہ ہے ، بلاول بھٹو

datetime 17  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف متعدد کیسز عدالتوں میں موجود ہیں، میری والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس میںبھی نامزد ہیںجس میں وہ عدالت کے بار بار طلب کیے جانے کے باوجود آج تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے ،مشرف پر غداری کیس بھی عدالت میں ہے جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے جبکہ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ کیس بھی اپنے آخری مراحل میں ہے اور اس کیس میں بھی وہ عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرتے رہے ہیں،اگر مشرف کو اس طرح ملک سے فرارہونے دیا گیا تو اہم کیسز ادھورے رہ جائیں گے اور قانون کے تقاضے بھی ادھورے رہ جائیں گے ، اپنے بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس سے قبل نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں بھی پرویز مشرف کو بغیر کسی پوچھ گچھ اور عدالت میں پیش ہوئے بغیرہی بری کرکے قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو عدالتوں سے کبھی انصاف نہیں ملا،یہاں تک کہ ایک متنازع فیصلے کے تحت جہاں ججوں کی رائے تقسیم ہونے کے باوجود بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی اور وہ کیس آج بھی ایک ایسا کیس ہے جسے عدالتیں بطور مثال تسلیم نہیں کرتیں،انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کے جھوٹے مقدمات کے تحت درج کیے گئے کیسز بھی 18,18برس تک عدالتوں میں چلائے جانے کے بعد فیصلے سنائے گئے ، پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کو طویل عرصہ تک جیلوں میں قید رکھا گیا ان کو ضمانتیں بھی نہیںدی گئیں لیکن ملک کے ایک ڈکٹیٹرپرویز مشرف پر درج سنگین کیسوں کے باوجود اس کے حق میں اورایک دن میں فیصلہ سنایا گیا اورعدالت میں پیش ہوئے بغیر مشرف کو ملک سے فرار ہونے کا موقع دیا جارہا ہے ، انہوں نے کہ کہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ایک معاہدے کے تحت ملک سے چلے جانے اور پھر واپس آنے کے سلسلے میں موجودہ حکومت پرویز مشرف کو اس کی ”احسان مندی“ کا صلہ دے رہی ہے، انہوںنے کہا کہ عوام یہ سمجھنے میںبھی حق بجانب ہوگی کہ آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ مشرف کو کلین چٹ دی جائے،چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ یہ تماشا بھی پہلی بار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی دلیل کے حکومت اور عدالت ایک دوسرے کی کورٹ میں بال پھینکتے رہے،عدالت فیصلہ دینے سے پہلے اٹارنی جنرل کو دلائل دینے کا کہتی رہی اور اٹارنی جنرل ”جو آپ کا فیصلہ“ کہہ کر جان چھڑاتے رہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر اس طرح ڈکٹیٹر مشرف کو انتہائی سنگین کیسز میں ریلیف دےکر ملک سے فرار کروایا گیا توحکومت کے پاس اقتدار میں رہنے کا باقی کوئی جواز نہیں رہےگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…