بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

شہباز تاثیر کی بازیابی،سراج الحق نے اہم سوال اُٹھادیا

datetime 9  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک)میر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر بھارت مکمل سکیورٹی کی ذمہ داری لیتا ہے تو قومی ٹیم کو ٹی 20ورلڈ کپ میں ضرور شریک ہونا چاہئے ،انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے ڈر کر ہم گھر میں تو نہیں بیٹھ سکتے ،البتہ جب تک بھارت کی طرف سے مکمل تحریری یقین دہانی نہیں کروادی جاتی احتیاط کے پہلوﺅں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ،چور دروازے سے پی آئی اے کی نجکاری کی حکومتی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،قومی اداروں کی بندر بانٹ کے پیچھے کرپشن کی بڑی بڑی داستانیں ہیں ،مصطفی کمال کے الزامات کی مکمل تحقیقات کرناحکومت اور اداروں کی آزمائش ہے ،ان الزامات کے حوالے سے قوم کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو جلد دور ہونا چاہئے ،بلدیہ فیکٹری میں جلائے گئے تین سو مزدوروں کے خاندانوں کو جلد انصاف ملنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شہباز تاثیر کی رہائی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تاوان کیلئے اغواءکئے گئے ایک شہری کی بازیابی اچھی بات ہے لیکن ساتھ ساتھ حیرت بھی ہے کہ شہباز تاثیر کسی قبائلی علاقے یا بارڈر ایریا سے نہیں بلکہ بلوچستان کے دارالحکومت کے ایک پررونق علاقے سے بازیاب ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہباز تاثیر کی رہائی بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت چاہے تو وہ نا صرف جرائم کو کنٹرول اور مجرموں کا قلع قمع کرسکتی ہے بلکہ حالات کو سدھارنے کی بھی پوری اہلیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہزاروں لاپتہ افراد کے کیس عدالتوں میں ہیں اور ان کے خاندان انتہائی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کروایا جائے تاکہ ان کے خاندانوں کی بھی اشک شوئی ہوسکے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن فری پاکستان تحریک بہت جلد ایک قومی تحریک بن کر ابھرے گی ۔ہم معاشرے کی دیانت و امانت کے اصولوں کے مطابق نئے سرے سے تشکیل کریں گے جس میں عوام ایک بدیانت اور کرپٹ شخص کا رہنا مشکل بنادیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی اجیرن کرنے والے حکمران کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے ۔حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے عام آدمی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ،عوام کو تعلیم ،صحت روز گار دستیاب ہے نہ رہنے کیلئے چھت ۔انہوں نے کہا کہ بیرونی بنکوں میں قومی دولت کے 375ارب ڈالر قومی بنکوں میں آجائیں تو ملک کو بحرانوں کی دلدل سے نکالا جاسکتا ہے اور سالانہ ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن پر قابو پا کر عوام کو تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت ،بدامنی اور دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے کیلئے بھی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…