لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے اہم منصوبہ افتتاح کے بعد ہی فروخت کرنے کافیصلہ کرلیا۔ قائداعظم سولر پارک بہاولپور کی نجکاری کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قائداعظم سولر پاور پارک بہاولپور پر اربوں خرچ کرنے کے بعد اب اس کی نجکاری کا بھی فیصلہ کر لیا گیا اور اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سیکرٹری انرجی نے کابینہ سے منظوری لینے کے لیے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی ہے۔قائداعظم سولر پاور پارک کو بیچنے کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے دو تجاویز زیرغور ہیں۔ پہلی تجویز کے مطابق عوام کو شیئر فروخت کیے جائیں جبکہ دوسری تجویز ہے کہ سٹرٹیجک سیل آف شیئر کے ذریعے مکمل طور پر فروخت کر دیا جائے۔ عوام کو شیئر فروخت کرنے کی تجویز کو طویل العمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب حتمی تجویز یہ قرار پائی ہے کہ سولرپارک کو سٹرٹیجک سیل آف شیئر کے ذریعے مکمل طور پر فروخت کر دیا جائے۔نیپرا نے سولر پارک میں بجلی کی فی یونٹ قیمت بارہ روپے مقرر کی ہے جبکہ اس وقت اس سے حاصل ہونے والی بجلی کی فی یونٹ پیدواری لاگت ہی چوبیس روپے ہے۔ قائداعظم سولر پاور پارک کی کل پیداواری صلاحیت سو میگاواٹ ہے جبکہ اس وقت صرف اٹھارہ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ سولر پاور پارک کی کل لاگت تیرہ اعشاریہ پانچ ارب روپے تھی اور اس کی پیداواری صلاحیت کو بتدریج ایک ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جانا تھا