اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخواحکومت کانسوارپرٹیکس لگانے کافیصلہ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور (نیوزڈیسک)کے پی کے حکومت سب پر بازی لے گئی ،نسوار پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ دوسری طرف ٹیکس کے نفاذ سے قبل ہی دوکانداروں نے نسوار کی قیمت دگنی کر دی،تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں نسوار کا نشہ ایک کلچر کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ،جب کہ نسوار کے نشے کی لت میں میں اب صرف پختون ہی نہیں بلکہ نسل و رنگ کی تمیز کئے بغیر پنجابی ،سندھی بلوچی اور سرائیکی بیلٹ میں یہ نشہ یکساں طور پر مقبول ہو چکا ہے ۔نسوار کے نشے کی بڑھتی ہوئی لت اور فروخت کنندگان کو حکومت کے پی کے نے ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا تو اس کی بھنک پڑتے ہی ”نسوار کے تاجروں “نے ٹیکس کے نفاذ سے قبل ہی اس کی قیمت دوگنی کر دی ہے ،واضح رہے کہ کے پی کے میں نسوار کے باقاعدہ 300سے زائد کارخانے موجود ہیں،جبکہ ہاتھ سے نسوار تیار کرنے والی ہزاروں فیکٹریا ں ملک کے ہر شہر اورہر گلی محلے میں موجود ہیں، جو نسوار تیار کر کے نہ صرف خیبر پختونخوا میں سپلائی کرتے ہیں بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی ”نسوار کے ٹرک“بجھوائے جاتے ہیں ،نسوار کی بڑھتی ہوئی کھپت کو مد نظر رکھتے ہوئے کے پی کے حکومت نے نسوار کے فی پیکٹ پر 3روپے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نسوار فیکٹریوں کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے حوالے سے صوبائی محکمہ ایکسائزمتحرک ہو چکا ہے جبکہ پشاور سمیت دیگر اضلاع کی انتظامیہ کو نسوار فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے ایڈیشنل اسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میںسروے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔واضح ر ہے کہ نسوار پر ٹیکس لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے نسوار فروشوں کو سختی کے ساتھ ہدائت کی گئی ہے کہ وہ نسوار کے پیکٹ پر ”انسانی صحت کے حوالے سے مضر اثرات “پر مبنی تنبیہ بھی نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…