جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواحکومت کانسوارپرٹیکس لگانے کافیصلہ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور (نیوزڈیسک)کے پی کے حکومت سب پر بازی لے گئی ،نسوار پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ دوسری طرف ٹیکس کے نفاذ سے قبل ہی دوکانداروں نے نسوار کی قیمت دگنی کر دی،تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں نسوار کا نشہ ایک کلچر کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ،جب کہ نسوار کے نشے کی لت میں میں اب صرف پختون ہی نہیں بلکہ نسل و رنگ کی تمیز کئے بغیر پنجابی ،سندھی بلوچی اور سرائیکی بیلٹ میں یہ نشہ یکساں طور پر مقبول ہو چکا ہے ۔نسوار کے نشے کی بڑھتی ہوئی لت اور فروخت کنندگان کو حکومت کے پی کے نے ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا تو اس کی بھنک پڑتے ہی ”نسوار کے تاجروں “نے ٹیکس کے نفاذ سے قبل ہی اس کی قیمت دوگنی کر دی ہے ،واضح رہے کہ کے پی کے میں نسوار کے باقاعدہ 300سے زائد کارخانے موجود ہیں،جبکہ ہاتھ سے نسوار تیار کرنے والی ہزاروں فیکٹریا ں ملک کے ہر شہر اورہر گلی محلے میں موجود ہیں، جو نسوار تیار کر کے نہ صرف خیبر پختونخوا میں سپلائی کرتے ہیں بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی ”نسوار کے ٹرک“بجھوائے جاتے ہیں ،نسوار کی بڑھتی ہوئی کھپت کو مد نظر رکھتے ہوئے کے پی کے حکومت نے نسوار کے فی پیکٹ پر 3روپے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نسوار فیکٹریوں کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے حوالے سے صوبائی محکمہ ایکسائزمتحرک ہو چکا ہے جبکہ پشاور سمیت دیگر اضلاع کی انتظامیہ کو نسوار فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے ایڈیشنل اسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میںسروے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔واضح ر ہے کہ نسوار پر ٹیکس لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے نسوار فروشوں کو سختی کے ساتھ ہدائت کی گئی ہے کہ وہ نسوار کے پیکٹ پر ”انسانی صحت کے حوالے سے مضر اثرات “پر مبنی تنبیہ بھی نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…