پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

پی پی، پی ٹی آئی مشترکہ اپوزیشن سیاست کیلئے خوش آئند ہے،طارق فضل

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک )مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مشترکہ اپوزیشن حکومت اور سیاست کیلئے خوش آئند ہے، وزراء کے اندرونی اختلافات قومی امور کی ادائیگی میں کبھی حائل نہیں ہوئے، تحریک انصاف کے کچھ عناصر ابھی بھی حکومت کو فوج کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں، کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا پیمانہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں حاضری نہیں ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرا میں اظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں ایم کیوا یم کے رہنما میاں عتیق،پیپلز پارٹی کے رہنما کریم خواجہ اور تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمودبھی شریک تھے۔شفقت محمود نے کہا کہ ن لیگ نے پارلیمنٹ کو ناکارہ بنادیا ہے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی بات درست نہیں، اہم ایشوز پر اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی سعی کی گئی ہے،حکومت اہم معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کرتی۔میاں عتیق نے کہا کہ اپوزیشن جماعت صرف تحریک انصاف نہیں ہے، اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والی دیگر جماعتیں بھی اپوزیشن کا حصہ ہیں، ایم کیو ایم کسی طرح بھی کمزور اپوزیشن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن چلنا چاہئے، آپریشن سمندر سے نکل کر میدانوں میں آرہا ہے۔کریم خواجہ نے کہا کہ آصف زرداری کی کرپشن مقدمات میں بریت حکومت کی مہربانی سے نہیں ہوئی۔طارق فضل چوہدری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مشترکہ اپوزیشن پاکستان ، حکومت اور سیاست کیلئے خوش آئند ہے، تحریک انصاف کے احتجاجی طرزِ سیاست سے ان کی مقبولیت گرتی جارہی ہے، پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن کرنے کا فیصلہ درست ہے، مثبت سوچ والی اپوزیشن کے بغیر کوئی حکومت بہترین کارکردگی نہیں دکھاسکتی ، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی اپوزیشن کا کام ہے، اپوزیشن کی جائز تنقید پر حکومت اصلاح کرے گی، مشترکہ اپوزیشن میں ایم کیو ایم بھی شامل ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…