لندن(نیوزڈیسک) عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کا کہنا ہے کوئی لیڈر تبدیلی نہیں لا سکتا ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو پہلے اپنے کردار میں تبدیلیاں لانا ہوں گی، برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی برطانوی سیاست میں عملی کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔عمران خان سے علیحدگی کے بعد ریحام خان تبدیلی کی بھی مخالف ہو گئیں، تحریک انصاف کے جلسوں میں شرکت اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے پر مختلف سیاسی دعوے کرنے والی ریحام خان کو اب سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی اور جلسوں میں شرکت کام چوری نظر آنے لگا ہے۔
آکسفورڈ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا سے خطاب کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے کوئی لیڈر بھی تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک عوام خود تبدیل نہ ہوں۔
ریحام خان کہتی ہیں کہ جلسوں میں شرکت کام چوری ہو سکتی ہے، تبدیلی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت تمام مشکلات کی جڑ ہے، انصاف کی عدم دستیابی سے غربت جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان انتہائی با صلاحیت ہیں۔ پاکستان کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، تبدیلی کے لیے خواتین کو مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔
پاکستان کا کوئی لیڈر تبدیلی نہیں لا سکتا, ریحام خان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امانت خان شیرازی
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
ایرانی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت پرروسی صدر پیوٹن کا بھی ردعمل بھی آگیا



















































