بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

حکومت نے پی ٹی آئی کی امریکا سے آنیوالی فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت جمع کرلیے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی امریکا سے آنے والی غیر ملکی فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت جمع کرلیے ہیں۔ فنڈنگ کرنے والے ذرائع کے یہودی اور ہندو شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن کے امریکی سیاست سے مفادات وابستہ ہیں۔جنگ رپورٹر صالح ظافر کے مطابق کچھ ”گھوسٹ“ معاونین کی شناخت بھی کی جا چکی ہے لیکن ان کے ٹھکانے صرف اسی صورت معلوم ہو سکتے ہیں جب امریکی ایجنسیاں ان کے متعلق تحقیقات کریں۔ یہ دعویٰ سابق وزیر مملکت اور بلدیاتی حکومتوں کا نیا نظام دینے والی شخصیت دانیال عزیز نے قومی اخبار کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ شکر گڑھ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز چوہدری نے الزامات کے حوالے سے شواہد حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کو یقین ہوجائے گا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی کارپوریشنز اور شخصیات سے فنڈنگ لی ہے، پی ٹی آئی تحلیل ہوجائے گی اور سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا کہ پارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے اسرائیل سے اپنے دوستوں سے لاکھوں ڈالرز وصول کیے ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ انتخابی نشان حاصل کرنے والی جماعت کو الیکشن کمیشن میں یہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوتا ہے کہ اس نے کالعدم ذریعے بشمول کارپوریشن اور شخصیات سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پارٹی تحلیل ہوجائے گی ویسے ہی اس کے ارکان کو پارٹی سے لاتعلقی ظاہر کرنا ہوگی بصورت دیگر 15 روز میں وہ اپنی رکنیت سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن اتھارٹی (ایف اے آر اے) نے انہیں کارپوریشنز اور شخصیات کے حوالے سے شواہد دیئے ہیں کہ جن سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کو رقوم بھیجی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف امریکا نہیں بلکہ دیگر ملکوں سے بھی پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی گئی ہے۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے بیری شنپس یہودی لیڈر ہیں اور وہ اسرائیلی منصوبوں کے زبردست حامی ہیں۔ بھارتی نڑاد امریکی سرمایہ کار اندر دوسپنج بھی ایسے امریکیوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کو بھاری فنڈز فراہم کیے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ جو دستاویزات فراہم کی گئی ہیں ان میں مقاصد کا تعلق ملک میں امن و عامہ کے مسائل پیدا کرنا اور حکومت وقت کو ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو امریکا میں بحیثیت کمپنی رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ وہ فنڈز وصول کر سکے۔ یہ ساری فنڈنگ اس وقت مشکوک ہو جاتی ہے جب پی ٹی آئی اور عمران خان نے قوت استعمال کرتے ہوئے گزشتہ سال دھرنوں سے وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کر دیا تھا اور ملکی معیشت اور ملک کو نقصان پہنچایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر بابر نے بھی انہی الزامات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا ہے۔ کمیشن جمعرات کو ان کا موقف سنے گا۔ اگر ان کی گزارشات منظور کی جاتی ہیں تو وہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان ”بلے“ کے تحت لاہور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ایسی صورت میں حکومت کو الیکشن ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں۔ امکان ہے کہ حکومت اکبر بابر کی کوششوں میں ان کی حمایت کرے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…