بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور میں چاکلیٹ خان اور نسوار خان کی دھوم

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چاکلیٹ اور نسوار کے شیدائی انسان تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے لیکن پشاور میں دو بکرے بھی یہی شوق فرماتے ہیں جن کی مستی من پسند چاکلیٹ کھانے اور نسوار پھانکنے کے بعد ہی کم ہوتی ہے۔نسوار کھاتے لوگوں کو تو آپ نے بہت دیکھا ہوگا لیکن اگر نسوار پھانکتا بکرا سامنے آ جائے تو دیکھنے والوں کے تو شاید ہوش ہی اڑ جائیں۔پشاور کی سربند بکرا منڈی میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے گاہکوں کی جب انہیں نظر آتا ہے لمبے لمبے کانوں والا نسوار کھاتا بکرا جس کا نام ہی مالک نے نسوار خان رکھ دیا ہے ، اسے جب تک اپنی یہ من پسند چیز نہ ملے چارہ ہضم نہیں ہوتا۔ظہور کے پاس صرف نسوار خان ہی نہیں بلکہ چاکلیٹ خان بھی ہے اور یہ بھی کوئی ملازم نہیں بلکہ بکرا ہی ہے جو چارے سے زیادہ چاکلیٹ کھانے کا شیدائی ہے۔ان مست بکروں کو قابو میں کرنے کیلئے مالک کو ایک کو چاکلیٹ کھلانی پڑتی ہے تو دوسرے کو نسوار کی پھکی دینی پڑتی ہے۔ اسی لئے تو اس کا نام نسوار خان ہی پڑ گیا ہے۔ بکرے بھی اپنی من پسند چیزیں کھا کر تمام مستی بھول جاتے ہیں۔نسوار خان کی قیمت پچاس ہزار جبکہ چاکلیٹ خان چالیس ہزار روپے میں فروخت کیلئے تیار ہے۔ مست بکروں کی اداﺅں نے منڈی کے دیگربیوپاریوں کو بھی دیوانہ کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…