بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دلبیر کور ‘ سربجیت سنگھ کی حقیقی بہن نہیں جعلی دستاویز پر پاکستان کا دورہ کیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

جسے حکومت نے گیس ایجنسی دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سواپن دیپ اور دلبیر کا ڈی این اے کیا جائے اور اسے سربجیت سنگھ کی بیوی سکھ پریت کور سے موازنہ کیا جائے۔ سربجیت کے حقیقی چھوٹے بھائی ہونے کا دعوی کرنے والےہربھجن سنگھ نے کہا کہ جب سربجیت سنگھ زندہ تھا تو دلبیر ان کے ساتھ رابطے میں تھی اور لدھیانہ میں ان کے گھر آیا کرتی تھی۔انہوں نے کہا کہ آخری بار سربجیت سے رابطہ اس وقت ہوا جب دلبیر کور کا سکھ پریت سے ایک لاکھ کے چیک پر تنازع ہوا جو سربجیت کے خاندان کی مالی امداد کےلئے تھا۔اس فون کی حقیقت پولیس ریکارڈ سے چیک کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سربجیت سنگھ کے والد کا اصل نام مہینگا سنگھ تھا،جب کہ دلبیر کور نے تمام ریکارڈ تبدیل کیا اور اس کے والد کانام سلکھن سنگھ لکھا۔ بی جے پی کی مقامی لیڈر ایم پی سنگھ گورایہ نے بلدیو سنگھ کی طرف سے دستخط شدہ ایک حلف نامہ پیش کیا جس نے دلبیر کے شوہر اور سواپن دیپ کے باپ ہونے کا دعوی کیا۔تاہم انہوں نے 2013میں دونوں ماں بیٹی کو چھوڑ دیا۔ حلف نامے میں لکھا گیا ہے کہ دلبیر ایک بہت چالاک عورت ہے وہ سلکھن سنگھ کی بھی بیٹی نہیں۔2009-10میں وہ کشمیری حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی سے بھی ملاقاتیں کرتی رہی ہے۔ دریں اثنا دلبیر کور کا کہنا ہے کہ وہ ہرصورت میں کسی بھی تحقیقات کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔ سربجیت کی بیوی سکھ پریت کا کہنا ہے کہ دلبیر کور جھوٹ بول رہی ہے ۔سواپن دیپ دلبیر کی بیٹی ہے۔جالندھر میں تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب پرکاش سنگھ بادل نےسواپن دیپ کو تقرری لیٹر پیش کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…