اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سندھ کے سابق وزیر سید علی بخش شاہ عرف پپو شاہ نے اپنی اہلیہ سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے ہمراہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کے لیے مقابلے کے لیے پپوشاہ کو پارٹی میں لایا گیا ہے جس کے جواب میں کہا گیا کہ پیپلزپارٹی بدین تک محدود نہیں ہے پورے ملک کی جماعت ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقارمرزا سیاست میں انتہا تک چلے گئے ہیں اب ان سے بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ فہمیدہ مرزا اور حسنین مرزا پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے رکن ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوتے ہیں پیپلزپارٹی کامیاب ہوتی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے وزراءوفاقی حکومت کو دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں یہ معاملہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تنگ آمد بجنگ آمد۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں غیرقانونی ہیں اور یہ صوبائی خودمختاری کے خلاف ورزی ہے ان کارروائیوں کے خلاف معاملہ وفاقی اپیکس کمیٹی نے اٹھایا ہے اور وزیراعظم کو بھی اس بارے میں آگاہ گیا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف سندھ میں کرپشن ہونے کا تاثر دینا درست نہیں ہے۔ کرپشن کے خلاف پورے ملک میں یکساں کارروائیاں ہونی چاہئیں۔ کرپشن کے خلاف تحقیقات کرنا صوبائی حکومت کا معاملہ ہے۔ صوبے میں اینٹی کرپشن کا محکمہ موجود ہے۔ صوبے میں کرپشن ہو یا بدانتظامی اس حوالے سے کسی کی شکایت پر ہم خود کارروائی کریںگے۔ انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت یہ بتائے کہ نیب اور ایف آئی اے صرف سندھ میں کیوں کارروائیاں کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت ہماری شکایات دور نہیں کریںگی ہم اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہیںگے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ معاملہ بڑھ جانے کے سبب صوبائی وزراءنے بیان دیا ہے۔ وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لے کر اسے حل کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے احتساب کے لیے اپنا ادارہ خود قائم کیا ہے وہ وفاقی احتساب کے اداروں کی بالادستی قبول نہیں کرتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں روکنے کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا صرف ایک صوبے کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فریال تالپور نے کہا کہ کرپشن اور دیگر معاملات پر کارروائی کرنا وزیراعلیٰ سندھ کا اختیار ہے۔ وہ صوبے کے مجاز اتھارٹی ہیں اور ہمارے تحفظات کا جواب بھی وہ دیںگے۔ انہوںنے کہا کہ سندھ کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صوبے میں کرپشن ہونے کا ولولہ کیوں مچایا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کیا خفیہ معاملات ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وفاق کی صوبائی امور میں مداخلت سے اب عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کی جماعت ہے اور ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریںگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…