بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ کے سابق وزیر سید علی بخش شاہ عرف پپو شاہ نے اپنی اہلیہ سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے ہمراہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کے لیے مقابلے کے لیے پپوشاہ کو پارٹی میں لایا گیا ہے جس کے جواب میں کہا گیا کہ پیپلزپارٹی بدین تک محدود نہیں ہے پورے ملک کی جماعت ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقارمرزا سیاست میں انتہا تک چلے گئے ہیں اب ان سے بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ فہمیدہ مرزا اور حسنین مرزا پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے رکن ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوتے ہیں پیپلزپارٹی کامیاب ہوتی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے وزراءوفاقی حکومت کو دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں یہ معاملہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تنگ آمد بجنگ آمد۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں غیرقانونی ہیں اور یہ صوبائی خودمختاری کے خلاف ورزی ہے ان کارروائیوں کے خلاف معاملہ وفاقی اپیکس کمیٹی نے اٹھایا ہے اور وزیراعظم کو بھی اس بارے میں آگاہ گیا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف سندھ میں کرپشن ہونے کا تاثر دینا درست نہیں ہے۔ کرپشن کے خلاف پورے ملک میں یکساں کارروائیاں ہونی چاہئیں۔ کرپشن کے خلاف تحقیقات کرنا صوبائی حکومت کا معاملہ ہے۔ صوبے میں اینٹی کرپشن کا محکمہ موجود ہے۔ صوبے میں کرپشن ہو یا بدانتظامی اس حوالے سے کسی کی شکایت پر ہم خود کارروائی کریںگے۔ انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت یہ بتائے کہ نیب اور ایف آئی اے صرف سندھ میں کیوں کارروائیاں کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت ہماری شکایات دور نہیں کریںگی ہم اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہیںگے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ معاملہ بڑھ جانے کے سبب صوبائی وزراءنے بیان دیا ہے۔ وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لے کر اسے حل کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے احتساب کے لیے اپنا ادارہ خود قائم کیا ہے وہ وفاقی احتساب کے اداروں کی بالادستی قبول نہیں کرتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں روکنے کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا صرف ایک صوبے کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فریال تالپور نے کہا کہ کرپشن اور دیگر معاملات پر کارروائی کرنا وزیراعلیٰ سندھ کا اختیار ہے۔ وہ صوبے کے مجاز اتھارٹی ہیں اور ہمارے تحفظات کا جواب بھی وہ دیںگے۔ انہوںنے کہا کہ سندھ کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صوبے میں کرپشن ہونے کا ولولہ کیوں مچایا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کیا خفیہ معاملات ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وفاق کی صوبائی امور میں مداخلت سے اب عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کی جماعت ہے اور ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریںگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…