ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کے لیے مقابلے کے لیے پپوشاہ کو پارٹی میں لایا گیا ہے جس کے جواب میں کہا گیا کہ پیپلزپارٹی بدین تک محدود نہیں ہے پورے ملک کی جماعت ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقارمرزا سیاست میں انتہا تک چلے گئے ہیں اب ان سے بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ فہمیدہ مرزا اور حسنین مرزا پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے رکن ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوتے ہیں پیپلزپارٹی کامیاب ہوتی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے وزراءوفاقی حکومت کو دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں یہ معاملہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تنگ آمد بجنگ آمد۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں غیرقانونی ہیں اور یہ صوبائی خودمختاری کے خلاف ورزی ہے ان کارروائیوں کے خلاف معاملہ وفاقی اپیکس کمیٹی نے اٹھایا ہے اور وزیراعظم کو بھی اس بارے میں آگاہ گیا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف سندھ میں کرپشن ہونے کا تاثر دینا درست نہیں ہے۔ کرپشن کے خلاف پورے ملک میں یکساں کارروائیاں ہونی چاہئیں۔ کرپشن کے خلاف تحقیقات کرنا صوبائی حکومت کا معاملہ ہے۔ صوبے میں اینٹی کرپشن کا محکمہ موجود ہے۔ صوبے میں کرپشن ہو یا بدانتظامی اس حوالے سے کسی کی شکایت پر ہم خود کارروائی کریںگے۔ انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت یہ بتائے کہ نیب اور ایف آئی اے صرف سندھ میں کیوں کارروائیاں کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت ہماری شکایات دور نہیں کریںگی ہم اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہیںگے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ معاملہ بڑھ جانے کے سبب صوبائی وزراءنے بیان دیا ہے۔ وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لے کر اسے حل کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے احتساب کے لیے اپنا ادارہ خود قائم کیا ہے وہ وفاقی احتساب کے اداروں کی بالادستی قبول نہیں کرتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں روکنے کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا صرف ایک صوبے کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فریال تالپور نے کہا کہ کرپشن اور دیگر معاملات پر کارروائی کرنا وزیراعلیٰ سندھ کا اختیار ہے۔ وہ صوبے کے مجاز اتھارٹی ہیں اور ہمارے تحفظات کا جواب بھی وہ دیںگے۔ انہوںنے کہا کہ سندھ کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صوبے میں کرپشن ہونے کا ولولہ کیوں مچایا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کیا خفیہ معاملات ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وفاق کی صوبائی امور میں مداخلت سے اب عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کی جماعت ہے اور ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریںگے۔
سندھ کے سابق وزیر سید علی بخش شاہ عرف پپو شاہ نے اپنی اہلیہ سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے ہمراہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری
-
افغان کرکٹر راشد خان پر افغانستان آنے کی پابندی عائد
-
حکومت کا سرکاری وخودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کافیصلہ
-
موسلادھار بارش کی پیش گوئی، الرٹ جاری کر دیا گیا
-
دانیہ شاہ کے شوہر حکیم شہزاد نے نویں جماعت کی طالبہ سے پانچویں شادی کرلی
-
اس سال کتنے روزے ہوں گے اور عید کے چاند کی پیدائش کب تک ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
این ڈی ایم اے نے ملک میں بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کر
-
راولپنڈی ،شوہر سے ناراضی پر گھر آئی بہن کو بھائی نے ہلاک کر کے قتل کردیا
-
جنگ کے خاتمے کیلیے پیوٹن نے ایسی کیا پیشکش کی تھی جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا ۔۔؟ جانیے
-
اسلام آباد و لاہور ایئر پورٹ کی پروازوں کیلئے نیا نوٹم جاری
-
کیا آپ پاسپورٹ بنوانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں جیز (Jazz)کی جانب سے 5G چل گیا ، سوشل میڈیا پر صارفین کے پیغامات



















































