اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک مو¿قر غیر سرکاری تنظیم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں سزائے موت پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد سے اب تک پاکستان میں 232 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔یہ تعداد گزشتہ دہائی میں کسی بھی ایک سال میں دی گئی پھانسیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشتگرد حملے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کا مقصد سزا یافتہ دہشت گردوں کی سزا پر عملدرآمد کرنا تھا مگر بعد میں دیگر جرائم میں موت کی سزا پانے والے مجرموں کی سزا پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب تک جن مجرموں کو سزا دی گئی ہے ان میں سے اکثریت ان کی ہے جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ان کا مو¿قف ہے کہ ملک کا تحقیقاتی اور عدالتی نظام ناقص ہونے کے باعث بعض اوقات جرم کا ارتکاب نا کرنے والوں کو بھی سزا سنا دی جاتی ہے، جس پر عملدرآمد کے بعد اس غلطی کا کبھی ازالہ نہیں کیا جا سکتا لہٰذا حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے اور قابل قبول شواہد کی بنا پر ہی عدالتیں ایسے مقدمات میں سزائیں سناتی ہیں۔انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ”سزائے موت پر عملدرآمد سے دہشت گردی میں کمی نہیں آ سکتی کیونکہ اکثر دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے۔ زیادہ تر خودکش حملوں میں ہی مارے جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں۔“لیکن سرکاری طور پر فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی کے سنگین جرائم بشمول پشاور اسکول پر حملہ میں ملوث شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 2008میں یورپی یونین نے پاکستان کو اپنی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک برآمد کے لیے ترجیحی درجہ ’جی ایس پی پلس‘ دینے کے لیے شرط عائد کی تھی کہ وہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر کرے۔اسی کے تحت پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق تین عالمی کے معاہدوں کی توثیق کرنے کے علاوہ سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی عائد کر دی تھی مگر اس سزا کو ختم کرنے پر اتفاق نہیں کیا تھا، جس کے بعد اسے 2013ءمیں جی ایس پی پلس کا درجہ دے دیا گیا۔حال ہی میں جرمنی کے وزیر خارجہ نے اپنے پاکستان کے دورے کے دوران اس مسئلے کو اٹھایا تھا مگر پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں سزائے موت کو ختم کرنا ممکن نہیں۔وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے جرمن سفیر کے ساتھ اپنی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا میں نصف ممالک نے سزائے موت ختم کر دی ہے مگر نصف ممالک میں یہ سزا اب بھی رائج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں اسے ختم کرنا ممکن نہیں مگر حالات بہتر ہونے کے بعد ہم اس پر غور کر سکتے ہیں۔
پاکستان‘ 2015ءمیں دی گئی پھانسیوں کی تعداد ایک دہائی میں سب سے زیادہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
نادرا نے بائیو میٹرک تصدیق کا نیا نظام متعارف کرا دیا
-
ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی



















































