اسلام آباد(نیوزڈیسک )حالیہ سیلاب سے پنجاب میں لیہ اور کوٹ ادو کے تقریبا ایک سو گائوں متاثر ہوئے ہیں۔سرکاری ریڈیو کے مطابق بارشوں سے متاثرہ اضلاع لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ میں انتظامیہ نے ان علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔دریائے سندھ سے آنے والا ایک بڑا سیلابی ریلہ آئندہ تین سے چار روز کے دوران ان علاقوں سے گزرے گا۔سرکاری ریڈیو کے مطابق پنجاب کے وزیراعلی محمد شہبازشریف نے صوبے میں کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی دریائے سندھ کے کچے کے علاقے سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔انھوں نے سیلاب کی صورتحال کی نگرانی کے لیے سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں بھی ایک کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پانچ دن پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے جس سے کئی مقامات پر خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔چترال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والی مون سون بارشوں کی وجہ سے ضلعے کی بیشتر وادیوں میں سیلابی ریلے آئے تھے جس کی وجہ سے گرم چشمہ، وادی کیلاش، بمبورت، رمبور، کریم آباد، حسن آباد اور تحصیل مستنوج کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سڑکیں، رابط پل، مکانات اور دکانیں پانی میں بہہ گئے تھے۔لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ میں انتظامیہ نے ان علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کی ہے چترال سے پشاور کی مرکزی شاہراہ پر واقع پل بھی سیلابی پانی کے نذر ہوگیا تھا تاہم مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مرکزی شاہراہ پر اب ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ چترال کی کئی وادیوں سے زمینی راستے گزشتہ پانچ دنوں سے بدستور منقطع ہیں جس سے بیشتر علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ پیر کو پہلی دفعہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا پہنچائی گئی ہیں، تاہم اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں امداد نہیں پہنچی۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے تاحال امدادی کاموں کاآغاز نہیں کیا جا سکا ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیلابی ریلوں کی وجہ سے اب تک 40 سے زائد مکانات، 100 کے قریب دکانیں، مساجد اور دیگر عبادت خانے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ تین افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کا موقف معلوم کرنے کے لیے ڈپٹی کمثنر سے کئی بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چترال میں مون سون بارشوں سے متاثر ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی فوری بحالی کی ہدایت کی ہے اور امدادی کاموں کیلیے دس لاکھ روپے کا فنڈ جاری کر دیا ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کےلئے پیر تا جمعہ نئے اوقات کار مقرر
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی
-
ہونڈا کی ایکسچینج سہولت، پرانی سی ڈی 70 دے کر نئی موٹر سائیکل حاصل کرنے کا موقع
-
بارشوں کا نیا اسپیل 27 اگست سے آنےکو تیار ، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آگئی
-
حنا جاوید قتل کیس،قاتل شوہر کو جج نہ کرنے کی فرضی مثال، ملزم کا پرانا لیکچر وائرل
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا



















































