کراچی(نیوزڈیسک)ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کی کوئی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں اور اسے ختم کر دینا چاہیے۔اس موقع پر انہوں نے خیبر پختونخوا میں چاند دیکھنے کے عمل کو درست قرار دیتے ہوئے شہادتوں کو اہمیت نہ دینے پر رویت ہلال کمیٹی سے سوال کیا کہ انہیں اسے رد کرنے کا کیا حق ہے؟۔انہوںنے کہاکہ میں نے خیبر پختونخوا میں چاند کے معاملے پر گواہی کے عمل کا خود مشاہدہ کیا اور گواہی دینے والا حلفیہ بیان دیتا ہے کہ اس نے چاند دیکھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ حلفیہ سب کے سامنے گواہی دینے والے شخص کو جھوٹا کہوں تاوقتیکہ اس کی بات کے جھوٹا ہونے کے شواہد موجود ہوں۔اگر مقامی سطح پر کسی نے چاند دیکھا ہے اور اس کی گواہی معتبر ہے تو وہ کیوں نہ عید کریں، کیوں وہ اس بات پر عید کریں کہ کراچی میں چند لوگ بیٹھ کر چاند دیکھ رہے ہیں اور جب وہ چاند دیکھیں گے تو میں ان کے ساتھ عید کروں۔انہوں نے مرکزی رویے ہلال کمیٹی کے ارکان سے سوال کیا کہ وہ کس بنیاد پر کسی شخص کے قرآن پر حلفیہ دئیے گئے بیان کو رد کر سکتے ہیں اور انہیں کس نے یہ حق دیا ہے؟۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کر دینا چاہیے کیونکہ یہ مذہب کے نام پر تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور اس کی کوئی قانونی یا آئینی حیثیت نہیں ہے۔تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے بھی فرحت اللہ بابر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے آنے والی گواہوں اور شہادتوں کو یکسر رد کرنا بالکل غلط ہے۔فاٹا اور خیبر پختونخوا میں لوگوں نے باقاعدہ نشانیاں رکھی ہوئی ہیں اور وہ 27 رمضان المبارک سے ڈیوٹیاں دے کر چاند دیکھنے کی ذمے داری انتہائی شوق اور احترام سے انجام دیتے ہیں۔شہریار نے کہا کہ تمام مکاتب فکر اور علما کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور تمام علما خصوصاً مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ارکان کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ خیبر پختونخوا کے لوگ بھی مسلمان ہے اور ان لوگوں کی گواہیوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ یہ پوری قوم کےلئے لمحہ فکریہ ہے کہ عید کے دن روزہ رکھنے پر شریعت کے کتنے سخت احکامات ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا سے چاند دیکھنے شہادت موصول ہو جاتی ہے تو اس پر یقین کرنا چاہیے، اسلام میں 30 اور 29 روزوں دونوں کی گنجائش موجود ہے۔عبدالقادر بلوچ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کل اس معاملے پر خیبر پختونخوا کے عوام یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں کہ ہمیں پاکستان میں برابری کے حقوق نہیں ملتے۔
پیپلزپارٹی ،ن لیگ اورتحریک انصاف کارویت ہلال کمیٹی کے خاتمے پراتفاق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا
-
وزیراعظم کا چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری افراد کیلئےبڑا اعلان



















































