منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

خیبر آپریشن؛ منشیات کا کاروبار ختم، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں نمایاں کمی

datetime 22  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک بھرمیں خصوصاً قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کونہ صرف غیرملکی امداد بلکہ اغوابرائے تاوان اورمنشیات کا کاروبار زندگی فراہم کررہا تھا لیکن پشاور سے ملحق قبائلی علاقے میں جاری آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش خاصی کامیاب رہی ہے۔پچھلے 3ماہ کے دوران صرف خیبر ایجنسی سے سیکیورٹی فورسزنے ایک ارب ڈالرسے زائدکی منشیات قبضے میں لیں اور ساتھ ہی اغواکاروں کے اڈے مسمار کردیے جس سے پشاور شہرمیں اغوا کی وارداتیں 70فیصد کم ہوگئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کیلیے مالی معاونت کے2 بڑے ذرائع اغوا برائے تاوان اور منشیات کاکاروبار تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے تیراہ کے علاقے باغ میدان کوقبضے میں لینے کے بعدوہاں سے چرس اور افیون کی کاشت ختم کر دی۔ باغ میدان پر جب فورسز نے قبضہ کیاتو فرار ہونے والے دہشت گردوں نے منوں کے حساب سے چرس، افیون اور ہیروئن کے ذخیرے کو آگ لگادی۔ یہ آگ ایک ہفتے تک جلتی رہی جس سے اندازہ ہوتاہے کہ کتنی مقدارمیں منشیات ذخیرہ کی گئی تھیں۔سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ صرف مارچ سے اب تک سیکیورٹی فورسزنے ایک ارب 80کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کی منشیات قبضے میں لی جبکہ دسمبر2014 سے مارچ تک تقریباً 5ارب 95کروڑ روپے کی منشیات قبضے میں لی گئی۔ صرف پچھلے 3مہینوں میں 2لاکھ 72ہزار کلوحشیش، 12ہزار کلوگرام ہیروئن، 389من افیون اور 70 کلوکے قریب وہ کیمیکلز پکڑے گئے ہیں جوہیروئن کی تیاری میں کام آتے ہیں۔ یہ کیمیکلز انڈیاکے تیارکردہ تھے۔ بتایا گیاہے کہ دہشت گرد تنظیموں نے منشیات کے اس کاروبار سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے اپنی رسیدیں بھی چھاپ رکھی تھیں۔تیراہ کے باغ بازار کے دکاندارایک لاکھ روپے ٹیکس دینے کے پابند تھے توکھیتوں پر 50ہزار من کے حساب سے ٹیکس لگایا گیاتھا۔ اس طرح چیک پوسٹ پرایک ہزارروپے کلوکے حساب سے ٹیکس لیا جاتاتھا جبکہ باڑہ میں منشیات کے کارخانوں پر 1100روپے کے حساب سے دہشت گردٹیکس وصول کرتے تھے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن خیبر ون اور ٹو کی کامیابی سے جہاں منشیات کا کاروبار ختم ہوگیا ہے وہاں فورسزنے پوست کی کاشت پربھی سختی سے پابندی عائد کررکھی ہے جس سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے راستے ختم ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…