ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

وطن کا دفاع کرنیوالے ادارے پر تنقید کسی کے مفاد میں نہیں :شاہ محمود

datetime 17  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فوج پر تنقید مناسب نہیں ۔بیان بازی اور انگلی اٹھانا کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔فوج اور پارلیمنٹ قومی ادارے ہیں ۔ یہاں کوئی مستقل نہیں سب عارضی ہیں ۔ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے ۔جمہوری راستہ بہتر راستہ ہے اور آئین کی پاسداری سب چاہتے ہیں ۔سندھ حکومت ان 24 لوگوں کی لسٹ کیوں پیش نہیں کر رہی کیا ہم کراچی میں امن نہیں چاہتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی سیاسی جماعت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے حق میں نہیں ہیں ۔سیاسی جماعتوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں ہونی چاہئے لیکن ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا بہت ضروری ہے۔ ڈی جی رینجر سندھ کے بیان پر ردعمل کیوں آیا حکومت اس لسٹ کو سامنے لائے اور قانون کے دائر کے اندر رہتے ہوئے ان کا احتساب ہونا چاہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ زرداری صاحب پانچ سال حکومت میں رہے اگر ان کے پاس کوئی ایسی لسٹ موجود تھی تو انہوں نے اس وقت بے نقاب کیوں نہیں کیا ۔ پاکستان کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے فوج پر تنقید ، بیان بازی اور انگلی اٹھانا کسی کے مفاد میں نہیں ۔ ملٹری کورٹس بنانے میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار اہم رہا ہے ۔ جمہوریت پر کوئی حملہ نہیں ہو رہا انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ زرداری صاحب ٹھنڈے مزاج کے حامل شخص ہیں وہ کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کہ انہوں نے اپنے مزاج میں یوٹرن لیا ۔ چوبیس لوگوں کی لسٹ سندھ حکومت کے پاس ہے وہ کیوں پیش نہیں کر رہی ۔ کیا ہم کراچی میں امن نہیں چاہتے۔ زرداری کے بیان پر انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور پارلیمنٹ قومی ادارے ہیں اس میں مختلف لوگ آتے جاتے رہتے ہیں یہ بات کرنا کہ ہم مستقل ہیں آپ مستقل نہیں ۔سراسر غلط ہے قومی اداروں میں کوئی مستقل نہیں ہوتا سب عارضی ہوتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…