بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تازہ بیان نے بھارت میں تھرتھلی مچادی

datetime 16  جون‬‮  2015 |

بجلی کی ضرورت ہے بجلی کی کمی کے باعث پورا فیصل آباد تباہ ہوچکا ہے یہی وہ غلط اقدامات ہیں جس سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوپارہا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاکہ ان کے ایک خط نے ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تجویز پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کردیا یہ ملک کی سا لمیت کے لئے وہ بڑا فیصلہ تھا جس کے نتیجے میں پاکستان محفوظ بن گیا اگر پاکستان ایمٹی قوت نہ بنتا تو اس کاوجود دس سال تک بھی قائم نہیں رہ سکتا تھا ۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے حکمرانوں کو ایمان کی توفیق عطا کرے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیلانی جیسے مزیداداروں کی ضرورت کو ملک کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امر خوش آئندہ ہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کے لئے سیلانی کی جانب سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم وتربیت کے لئے چین بھجوایاگیا ہے ۔مخیر حضرات سیلانی ٹرسٹ کی دل کھول کر امداد کریں ۔حقوق العباد کو دیکھنا ہوتو سیلانی ٹرسٹ اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ قبل ازیں مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اقربا پروری کا دین نہیں ہے پوری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے آپ اور میں سب سیلانی ہیں معاشرے سے غربت کے خاتمے کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے شعبوں میں سیلانی بننا ہوگا۔ سیلانی کے سالانہ اخراجات تین ہزار ملین اور اس کے شعبوں کو چلانے کیلئے1600سوافراد کا اسٹاف ہے ہر شخص خود ویلفیئر بننا چاہے تو وہ بن سکتا ہے بھارت پاکستان کے خلاف کتنا بھی چیخ لے سامنے آئے گا تو منہ کی کھائے گا مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان ہیں اُنہوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا کر پاکستانیوں کا سرعالمی برادری میں فخر سے بلند کردیا ہے قبل ازیں عامر اقبال مدنی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سیلانی دسترخوان کے کراچی ،حیدرآباد، فیصل آباد، اسلام آباد میں90مراکز کے فعال ہونے کے بعد2015-16 میں ملک میں 25 سیلانی موبائل دسترخوانوں کا قیام عمل میں لایاجارہاہے جب کہ کراچی اور تھرپارکرمیں46بنیادی تعلیم کے اسکولز قائم کرنے کے بعد نئے سال میں بلوچستان کے ضلع خضدار میں30اور ضلع تھرپارکر میں مزید 30 اسکولز قائم کرنے کے علاوہ سیلانی بلڈبینک آئی کئیر ہیلتھ موبائل پروگرام کاآغاز کیا جائے گا جب کہ موبائل ہیلتھ کیئر پروگرام کوشروع کرنے کے ساتھ ساتھ اسکول کے بچوں کی مفت ہیلتھ اسکرنینگ اور ہیپا ٹائٹس ویکیشن کا پروگرام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…