بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی میں جاسوسی کے ایک بڑے مرکز کا انکشاف،چھاپے کے دوران15ملک دشمن گرفتار

datetime 14  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر گلشن آباد کے رہائشی علاقے میں جاسوسی کے ایک بڑے مرکز کا انکشاف ہواہے۔ سکیورٹی فورسز آئی ایس آئی اور دوسرے خفیہ اداروں نے جاسوسی کے مرکز پر چھاپہ مار ا۔ جہاں سے ریڈار سمیت جاسوسی کے جدیدآلات برآمد کر کے15افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس جاسوسی کے مرکز کے قیام کے پیچھے بھارتی خفیہ ادارے ”را“ کا ہاتھ خارج از امکان نہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیاکہ انتہائی حساس علاقے میں قائم جاسوسی کے مرکز کے ذریعے جی ایچ کیو، دھمیال ائیربیس ،ضرارکیمپ اور اڈیالہ جیل کے علاوہ دیگر حساس تنصیبات کی جاسوسی کی جاتی تھی۔ یہاں سے اکثرو بیشتراعلیٰ فوجی افسران اور غیرملکی وفود کی بھی آمدورفت ہوتی ہے۔ ضرارکیمپ میں مقیم اعلیٰ فوجی افسران اڈیالہ روڈ کو بھی آمدورفت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جاسوسی مرکز گلشن آباد سیکٹر میں ایک پہاڑی پر تعمیر تین منزلہ عمارت میں قائم تھا۔علاقے کے مکینوں نے بتایاکہ کافی دنوں سے اس کوٹھی پرمشکوک لوگوں کی آمدورفت کاسلسلہ جاری تھا۔ ذرائع نے بتایا خفیہ ادارے کے لوگ گزشتہ چند ہفتوں سے اس عمارت سے ملنے والے سگنلز کو مانیٹر کر رہے تھے اور گلشن آباد میں اس عمارت تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے عمارت کوگھیرے میں لے لیااور آپریشن کرکے عمارت کے اندرسے ریڈار جاسوسی کے آلات اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث15افراد کو گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی فورسز اگرچہ اس واقعہ کو صیغہ راز میں رکھ رہی ہیں مگرانتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایس آئی اور دوسرے اداروں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے گرفتار شدہ افراد سے ملنے والی معلومات کے تناظرمیں مزید کارروائی کاامکان ہے۔ سکیورٹی فورسز ان خطوط پر تحقیقات کررہی ہیں کہ کیا یہ جاسوسی مرکز دہشت گردوں کے زیراستعمال تھا اور پیچھے کون لوگ ہیں۔ کیاان کامقصد کوئی بڑا ٹارگٹ حاصل کرناتھا۔ کیونکہ دھمیال ائیربیس سے اکثرو بیشتراعلیٰ فوجی افسران اور غیرملکی وفود کی بھی آمدورفت ہوتی ہے کیایہ ملک دشمن عناصراڈیالہ جیل پر نظر رکھتے تھے واضح رہے کہ ضرارکیمپ میں اعلیٰ فوجی افسران اڈیالہ روڈ کو بھی آمدورفت کے لئے استعمال کرتے ہیں تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…