منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

این اے122سے متعلق نادرا کی رپورٹ پر تنازعہ کھڑاہوگیا

datetime 13  جون‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)الیکشن ٹریبونل نے این اے122سے متعلق نادرا کی سپلیمنٹری رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے یانہ بنانے پرفیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 15جون تک ملتوی کردی ۔ پی ٹی آئی کے وکلاءنے سپلیمنٹری رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نادرا نے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر انکے خلاف درخواست دائر کی جائے گی جبکہ سردار ایاز صادق کے صاحبزادے علی ایازصادق نے کہا ہے کہ تمام شواہد حق میں آچکے ہیں عمران خان اب الزام تراشی بند کریں۔گزشتہ روز الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس (ر) کاظم ملک نے این اے122مبینہ دھاندلی کیس کی سماعت کی ۔ چیئرمین نادراعثمان مبین نے ٹربیونل کے رو برو پیش ہو کر بتایا کہ نادرا رپورٹ پرجواعترااضات تھے وہ ختم کرکے سپلیمنٹری رپورٹ جمع کروادی ۔سپلیمنٹری رپورٹ عمران خان اورسردارایازصادق کے وکلا ءکے اعتراضات کے بعد تیار کی گئی جس میں تمام حقائق واضح کردئیے ہیں الیکشن ٹریبونل نے این اے122سے متعلق چیئرمین نادرا کی سپلیمنٹری رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے یانہ بنانے پرفیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 15جون تک ملتوی کردی ۔سماعت کے بعد وکلاءکے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ایازصادق نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولنا اورالزام لگانا بندکرکے حقائق کو ہمت کے تسلیم کریں۔ این اے 122میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی، نادرا کی جانب سے پیش کی جانے والی سپلیمنٹری رپورٹ بالکل درست ہے، یہ کوئی نئی یا الگ رپورٹ نہیں پہلی رپورٹ کی وضاحت ہے، وکلا ءنے نادرا سے وضاحتیں مانگیں جس پر سپلیمنٹری رپورٹ جاری کی گئی۔عمران خان یہ بات تسلیم کر لیں کہ این اے 122 میں دھاندلی نہیں ہوئی ، عمران خان جھوٹ بول کر ہیرو سے زیرو بن گئے ہیں۔پی پی 147سے پی ٹی آئی کے ناکام رہنے والے امیدوار شعیب صدیقی اور عمران خان کے وکلاءنے چیئرمین نادرا کی سپلیمنٹری رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نادرا نے اختیارات سے تجاوزکیا لہٰذاان کے خلاف کاروائی کی جائے اور اس پر درخواست دائر کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ نادرا کی جانب سے جاری کی گئی دونوں رپورٹس میں تضاد ہے۔پہلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این اے 122میں بے ضابطگی ہوئی جبکہ دوسری رپورٹ میں سردار ایاز صادق کو کلین چٹ دے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…