جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

شفقت حسین کی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کیوں ہوئی

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت کی جانب سے سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کو منگل کی صبح دی جانے والی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرےگی۔ نجی ٹی وی نے ایوان صدر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بظاہر یہ سزا سندھ جیل انتظامیہ کے احکامات پر ملتوی کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد صدر ممنون حسین کو آگاہ کیا گیا کہ کس طرح یہ سزا کس کے احکامات پر ملتوی کی گئی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو بتایا گیا کہ ایک این جی او جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے ایک خط سندھ جیل انتظامیہ کو تحریر کرکے ملزم کی پھانسی ملتوی کرنے کی درخواست کی کیونکہ اس کی ایپل کو سپریم کورٹ نے رسمی سماعت کےلئے قبول کرلیا تھا۔انہوںنے کہاکہ جیل مینوئل کی شق 104 کے تحت جیل نے سزا پر عملدرآمد روک دیا۔سینٹرل جیل کراچی میں شفقت حسین کی پھانسی کو ملتوی کرنے کے فیصلے نے تمام متعلقہ یہاں تک کہ ملزم کے اپنے وکیل کو بھی ششدر کردیا تھا۔صدارتی ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملزم کی سزا روکنے سے متعلق نہ تو وزیراعظم آفس نے رحم کی درخواست ارسال کی تھی اور نہ ہی صدر ممنون حسین نے ایسے احکامات جاری کیے تھے۔چند روز قبل کراچی سینٹرل جیل کے جیلر قاضی نذیر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سزا کو ملتوی کیے جانے کی ذمہ داری لیتے ہیں سزا پر عملدرآمد کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، مگر ایک شخص کی جان پھر واپس نہیں آسکتی اور سزا کی صبح سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی تھی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ پھانسی کو روک دوں۔شفقت حسین کو 2004 میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل پر سزائے موت سنائی تھی۔ کیس پر کارروائی مقامی عدالتوں، ہائیکورٹ اور آخر میں سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں سزا کو برقرار رکھا گیا۔شفقت حسین کی رحم کی درکواست بھی صدر نے مسترد کردی تھی۔اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اظہر من اللہ نے کہا تھا کہ سماعت کے دوران ایسا کوئی مواد سامنے نہین آسکا جسسے ثابت ہوتا کہ پٹیشنر کے کسی قسم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں ایسی درخواست کی گنجائش نہیں کیونکہ ایسی درخواست عدالتی نظام پر سے عوام کا اعتماد اٹھانے کا باعث بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…