منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

شفقت حسین کی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کیوں ہوئی

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت کی جانب سے سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کو منگل کی صبح دی جانے والی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرےگی۔ نجی ٹی وی نے ایوان صدر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بظاہر یہ سزا سندھ جیل انتظامیہ کے احکامات پر ملتوی کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد صدر ممنون حسین کو آگاہ کیا گیا کہ کس طرح یہ سزا کس کے احکامات پر ملتوی کی گئی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو بتایا گیا کہ ایک این جی او جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے ایک خط سندھ جیل انتظامیہ کو تحریر کرکے ملزم کی پھانسی ملتوی کرنے کی درخواست کی کیونکہ اس کی ایپل کو سپریم کورٹ نے رسمی سماعت کےلئے قبول کرلیا تھا۔انہوںنے کہاکہ جیل مینوئل کی شق 104 کے تحت جیل نے سزا پر عملدرآمد روک دیا۔سینٹرل جیل کراچی میں شفقت حسین کی پھانسی کو ملتوی کرنے کے فیصلے نے تمام متعلقہ یہاں تک کہ ملزم کے اپنے وکیل کو بھی ششدر کردیا تھا۔صدارتی ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملزم کی سزا روکنے سے متعلق نہ تو وزیراعظم آفس نے رحم کی درخواست ارسال کی تھی اور نہ ہی صدر ممنون حسین نے ایسے احکامات جاری کیے تھے۔چند روز قبل کراچی سینٹرل جیل کے جیلر قاضی نذیر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سزا کو ملتوی کیے جانے کی ذمہ داری لیتے ہیں سزا پر عملدرآمد کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، مگر ایک شخص کی جان پھر واپس نہیں آسکتی اور سزا کی صبح سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی تھی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ پھانسی کو روک دوں۔شفقت حسین کو 2004 میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل پر سزائے موت سنائی تھی۔ کیس پر کارروائی مقامی عدالتوں، ہائیکورٹ اور آخر میں سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں سزا کو برقرار رکھا گیا۔شفقت حسین کی رحم کی درکواست بھی صدر نے مسترد کردی تھی۔اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اظہر من اللہ نے کہا تھا کہ سماعت کے دوران ایسا کوئی مواد سامنے نہین آسکا جسسے ثابت ہوتا کہ پٹیشنر کے کسی قسم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں ایسی درخواست کی گنجائش نہیں کیونکہ ایسی درخواست عدالتی نظام پر سے عوام کا اعتماد اٹھانے کا باعث بنتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…