منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی آبادی ،حیرت انگیز انکشافات

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی آبادی سالانہ 2 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور یہ 19 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔پاکستان میں شرح پیدائش 3.2فیصد ہے لیکن اتنی آبادی والے ملک میں صحت ،تعلیم کی سہولیات آٹے میں نمک کے برابر ہےں۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد جو کام کر سکتے ہیں ان کی تعداد 6کروڑ ہے اور ان میں 5کروڑ 65 لاکھ افراد ملازمت کر رہے ہیں۔سروے کے مطابق 36 لاکھ افراد بےروزگار ہیں ،ملک میں بیروزگاری کی شرح 6فیصد ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سے نو سال کی عمر بچوں میں سے محض 57 فیصد ہی سکول میں داخلہ لے پاتے ہیں۔سرکاری سکولوں میں داخلہ کی شرح سب سے زیادہ پنجاب میں ہے اور پنجاب میں سکول جانے کی عمر والے تقریباً 62 فیصد بچے سکول جاتے ہیں جبکہ سندھ میں 52 فیصد اور بلوچستان میں 45 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔پاکستان میں خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے جن میں سے خواتین میں خواندگی کی شرح محض 47 فیصد ہے۔سروے کے مطابق سب سے زیادہ خواندہ خواتین یعنی 52 فیصد پنجاب میں ہیں جبکہ سندھ میں خواتین کی خواندگی کی شرح 43 فیصد، خیبر پختونخوا میں 36 فیصد اور بلوچستان میں 25 فیصد ہے۔سروے کے مطابق ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں کی تعداد 161 ہے اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کےلئے یونیورسٹیوں میں 18 لاکھ افراد تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اقتصادی سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اوسط عمر 66 سال اور 6ماہ ہے اور ملک میں پیدا ہونےوالے ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 69 بچے پیدا ہونے کے بعد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں صحت کی عدم سہولیات اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے ہزار بچوں میں تقریباً 86 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں جبکہ زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات بھی خطے کے دوسرے ممالک کے مابین زیادہ ہے۔سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 75 ہزار 223 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے 1073 افراد کے علاج معالجے کےلئے صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد 90 ہزار ہے۔ملک میں ہسپتالوں میں بستروں کی صورتحال یہ ہے کہ تقریباً 16 سو افراد کو علاج معالجے کےلئے ہسپتال میں محض ایک بستر ہے۔پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 4500 ہے۔ ملک میں جنوری سے جون تک پولیو کے 25 کیسز سامنے آئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…