بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مودی کی مذاکرات کی پیشکش،پاکستان نے جواب دیدیا

datetime 2  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہداری پر بھارتی تنقید کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے پورا خطہ مستفید ہوگا ¾ پاکستان اور چین کے درمیان مثالی تعلقات ہیں ¾پاکستان دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے¾ تمام تصفیہ طلب مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کا تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ¾ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائر ¾بے یارومدد گار کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں مرتکب ہونے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کو تشدد سے پاک ماحول قائم کر نے کا کہنا ایک مذاق ہے۔ منگل کو وزیر اعظم کے مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے بھارت کی تشویش اور بھارتی وزیراعظم کے مذاکرات کے بارے میں بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارتی وزیر خارجہ کے ان ریمارکس پر حیرت ہوئی ہے کہ اقتصاد ی راہداری منصوبہ ناقابل قبول ہے انہوںنے کہا کہ یہ میگا پراجیکٹ خطے کو ایک دوسرے سے ملانے کےلئے اور اقتصادی ترقی اور خوشحالی کےلئے شروع کیا گیا ہے انہوںنے کہاکہ ترقی کےلئے علاقائی طورپر منسوب ہونے کی اہمیت اور پاک چین اقتصادی راہدای سے متعلق بھارتی بیانات میں دو غلا پن پایا جاتا ہے مشیر خارجہ نے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مثالی تعلقات ہیں انہوںنے کہا کہ پاکستان دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے اور وہ دوسرے ممالک سے بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے بیانات دینے سے اجتناب بر تیں گے مشیر خارجہ نے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے حوالے سے ایک بڑا فریم ورک ہے اور کسی بھی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے سر تاج عزیز نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف بھارت سمیت اپنے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا وژن رکھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندرمودی کی 26مئی 2014کو نئی دہلی میں ہونے والی تقریب حلف بر داری میں بھی شرکت کی تھی انہوںنے کہاکہ اس وژن کا بنیادی مقصد خطے کی اقتصاد ی ترقی ہے انہوںنے ممبئی حملہ کیس کے مشتبہ ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کے حوالے سے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔بھارت کی جانب سے اس کیس میں سست روی کا الزام لگا کر تشویش ظاہر کر نے کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ بھارت اس معاملے میں جو ڈیشل کمیشن کو ستمبر 2013تک بھارت کا دورہ کر نے کی اجازت نہ دیکر خود تاخیری حربے استعمال کر تا رہا ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان کو بھی بعض معاملات پر تحفظات ہیں اور واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کے طورپر بھارتی فوج کے جس افسر کا نام آر ایس ایس کے رکن سوامی اسیمانند کی طرف سے لیا گیااس کے ٹرائل سے متعلق تفصیلات بھی ہمارے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں انہوںنے یاد دلایا کہ 2007ءمیں سمجھوتہ ایکسپریس پر بھارتی حدود میں کئے گئے حملے میں 70لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھیںتھے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی اور یہ واقعہ ممبئی حملوں سے دو برس پہلے ہوا انہوںنے کہاکہ متاثرہ خاندان ابھی تک انصاف کی فراہمی کے منتظر ہیں مشیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کا تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے پاکستان نے بھارت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مذاکرت کےلئے آمادہ ہے بشرطیکہ بھارت اس کےلئے تیار ہو انہوںنے کہاکہ پاکستان ایک پائیدار جامع اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل پر یقین رکھتا ہے اور پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام تنازعہ کشمیر کے حتمی حل میں اہم فریق ہیں کیونکہ انہوںنے ابھی اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کر نا ہے جس کے حوالے سے اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادوں میں بتایاگیا ہے سرتاج عزیز نے ہم آہنگی ¾ پر مبنی دہشتگردی اور تشدد سے پاک ماحول قائم کر نے کے حوالے سے مشیر خارجہ نے کہاکہ امن ایک کثیر جہتی عمل ہے جب بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائرکی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے اور بے یارومدد گار کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوتا ہے اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں مرتکب ہوتا ہے تو ایسے حالات میں پاکستان کو تشدد سے پاک ماحول قائم کر نے کا کہنا ایک مذاق ہے مشیر خارجہ نے اس حوالے سے بھارتی وزیر دفاع منو ہرپاریکر کی طر ف سے بھارتی پالیسی واضح کئے جانے کا بھی ذکر کیا جس میں بھارتی وزیر نے میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق پاکستانی خدشات کی تصدیق کی تھی انہوںنے کہاکہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور اس نے دہشتگردی کے خلاف اپنی کوششوں کے دور ان ہزاروں جانیں قربان کی ہیں انہوںنے کہاکہ اس لئے دہشتگردی مشترکہ چیلنج ہے اور اس ناسور سے نمٹنے کےلئے اجتماعی کوششیں در کار ہیں -بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اب پاک بھارت مذاکرات کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے اور ہر وقت جنگ کی دھمکی دینے والے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر شاید کچھ ہوش آگیا ہے اسی لیے انہوں نے بھارتی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مودی کا کہنا تھا کہ تشدد کسی قوم کے حق میں نہیں اور اس کا فائدہ نہ پاکستان کو ہے اورنہ ہی بھارت کو جب کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک بھی ختم ہونا چاہئے۔پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم ہونا چاہئے۔۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…