منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی خفیہ ایجنسی کے افسر کے راسے تعلقات ،ڈی جی آئی ایس آئی کاقابل ستائش اقدام،جس پرقوم کوفخر ہے

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی خواہش ایک طرح کافطری عمل ہے لیکن ممالک کے درمیان جاسوسی کی یہ جنگ اب مزید شدت اختیار کرچکی ہے اور میدان میں لڑنے کی بجائے خفیہ ہتھیاراستعمال کرکے آج کی دنیا میں مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں ، ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان میں پیش آیاجب دنیا کی نمبر ون ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈی جی کے قریبی ساتھی نے مخالف ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی سے تعلقات بنالیے لیکن اس انکشاف کے بعد آئی ایس آئی نے اپنی نمبر ون ہونے کی روایت برقراررکھی اور اِسی شخص کو بھارت کیخلاف استعمال کردکھایا۔سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے انکشاف کیاکہ ا±ن کا ایک قریب ترین شخص یا سٹاف آفیسر یا اِسی نوعیت کے افسرکے ’را‘ کیساتھ تعلقات کاانکشاف ہوا اور یہ خبر ڈی جی آئی ایس آئی تک بھی پہنچ گئی کہ ہمارابندہ بھارت کے لیے کام کررہاہے۔ اِسی گفتگوکے دوران ڈاکٹرشاہد مسعود نے ڈی جی آئی ایس آئی سے پوچھ لیاکہ آپ نے مذکورہ بند ہ گرفتار کیوں نہیں کیا جس پر ڈی جی آئی ایس آئی نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ ا±س بندے کو احساس کرائے بغیر ہم نے غلط اطلاعات(ڈس انفارمیشن) پہنچاناشروع کردی اوراِسی دوران مانیٹرنگ کرکے پورے نیٹ ورک کی کھوج لگاناشروع کردی اورجب پوری کہانی سامنے آگئی تو اس گروہ میں ملوث سب لوگوں کو ایک ہی مرتبہ پکڑلیا لیکن یہ بھی واضح رہے کہ ڈاکٹرشاہد مسعود نے اس انکشاف کا وقت یا ڈی جی آئی ایس آئی کا نام نہیں بتایا۔آئی ایس آئی کے اس کارنامے سے اندازہ ہوتاہے کہ خفیہ ایجنسیاں کس طرح کام کرتی ہیں اور بالخصوص ایک ایسی ایجنسی جس کی اپنے کام میں مہارت کی وجہ سے دنیا بھرمیں اپنی پہچان ہے ،پاکستان کے حساس ادارے ملک کے محافظ ہیں ، سیاست میں شمولیت جیسے کئی غلط کاموں کے باوجود قوم کو پاکستان کی مسلح افواج اور اداروں پر فخر کرناچاہیے۔ بعض لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی لیکن یہ کام پھرزیادہ دیر تک نہیں چل سکتا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…