جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

54 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے: یونیسکو

datetime 23  اپریل‬‮  2015 |

نیو یارک(نیوز ڈیسک)ثقافت اور تعلیم سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 54 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے جو جنوبی ایشیا کے ممالک میں سب سے بڑی تعداد ہے۔پاکستان میں تعلیم کے بارے میں بدھ کو منظرِ عام پر آنے والی یونیسکو کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک پاکستان میں لڑکیوں اور لڑکوں کے پرائمری سکولوں میں بھرتیوں کا نتاسب بہتر ہونے کا امکان ہے۔یونیسکو کی یہ رپورٹ ’سب کے لیے تعلیم‘ کے موضوع پر گذشتہ 15 سالوں سے شائع ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت، ایران اور نیپال نے اس سلسلے میں خاص پیش رفت دکھائی ہے تاہم بچوں کی بڑی تعداد سکول چھوڑ دیتی ہے اور تعلیم کا معیار بہت خراب ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سنہ 2015 تک کے زیادہ تر تعلیمی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔جنوبی ایشیا میں بچوں کے سکول چھوڑنے کی شرح جہاں بہت کم ہوئی ہے وہیں پاکستان میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے اور جو جاتے ہیں ان کی بہت کم تعداد دسویں جماعت تک پہنچ پاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں بلوچستان کے پانچویں جماعت کے 33 فیصد بچے اردو اور مقامی زبانوں میں کہانی پڑھ سکتے تھے جبکہ صوبہ پنجاب میں یہی تعداد 63 فیصد تھی
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق غریب بچیاں سب سے زیادہ ناخواندگی کی شکار رہتی ہیں تاہم اس کے باوجود سکول میں داخل ہونے والے لڑکے اور لڑکیوں کا تناسب بہت بہتر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نصابی کتابوں میں بھی جنسی تعصب واضح ہے جس کی کئی وجوہات ہیں:

مزید پڑھئے:مسٹر رائٹ ملتے ہی شادی کر لوں گی، پریانکا

’نصاب کی اصلاح اور کتابیں شائع کرنے والے ادارے اس تعصب کو ختم کرنے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں جبکہ اصلاحات کو سیاسی ترجیح نہیں دی جاتی اور نہ ہی انھیں عوامی تعاون حاصل ہے۔‘رپورٹ نے سرکاری اعداد و شمار کی مدد سے معیارِ تعلیم اور مختلف علاقوں کے درمیان تفریق پر بھی سوال اٹھایا ہے۔رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں بلوچستان کے پانچویں جماعت کے 33 فیصد بچے اردو اور مقامی زبانوں میں کہانی پڑھ سکتے تھے جبکہ صوبہ پنجاب میں یہی تعداد 63 فیصد تھی۔یونیسکو نے سنہ 2000 میں دنیا میں تعلیم کے حوالے سے سنہ 2015 تک پانچ اہداف کی نشاندہی کی تھی جن میں بچوں کا سکول میں داخلہ، بالغ افراد کی ناخواندگی کی شرح کو نصف کرنا اور ثانوی تعلیمی سطح تک لڑکے اور لڑکیوں کا برابر کا تناسب شامل ہیں۔یونیسکو کا کہنا ہے کہ پاکستان ان تمام اہداف میں بہت پیچھے ہے تاہم پاکستان میں پرائمری سکول سے قبل 80 فیصد داخلوں تک کی شرح اچھی ہے اور پاکستان پرائمری سکول میں لڑکے اور لڑکیوں کے برابر داخلے کے ہدف تک تقریباً پہنچ چکا ہے۔یونیسکو کے مطابق پاکستان میں معیارِ تعلیم کی بہتری، جنسی تعصب کا خاتمہ، تعلیمی اداروں تک رسائی اور سکولوں میں اچھے ماحول کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے کے علاوہ پختہ سیاسی عزم سے ہی ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…