پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا اسمبلی میں بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کی متفقہ قراردادمنظور

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کی متفقہ قراردادمنظورکرلی۔قرارداد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ30مئی کو صوبائی سطح پر ہونےوالے بلدیاتی انتخابات انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کی نگرانی میں کئے جائیں۔جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی کااجلاس سپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت شروع ہوا تو اراکین شاہ حسین،سکندرشیرپاﺅ،جعفرشاہ،منورخان اورراجہ فیصل زمان نے نکتہ اعتراض پربتایاکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کےلئے اپوزیشن جماعتوں کو تشویش ہے کہ اگریہ انتظامیہ کے زیرنگرانی ہوتے ہیں تو اس میں دھاندلی کے امکانات موجود ہونگے اس لئے اپوزیشن جماعتیں یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کاانعقاد انتظامیہ کی بجائے عدلیہ کے زیرنگرانی کئے جائیں کیونکہ اس وقت بلدیاتی الیکشن کےلئے تمام ریٹرنگ افیسرانتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں اپوزیشن اراکین کے مطابق تیس تاریخ کے بلدیاتی انتخابات کے سرکاری نتائج سات جون کو جب جاری کردئیے جائینگے تو ان نتائج میں بھی دھاندلی کے خدشات موجود ہونگے عام انتخابات میں جب اگلے روز نتائج کااعلان کیاجاتاہے توبلدیاتی انتخابات میں ایسا کیوں نہیں کیاجاتااس موقع پر صوبائی وزیر شاہ فرمان نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے لئے نوکروڑسے زائد بیلٹ پیپرکی ضرورت ہوتی ہے اوراگر ان بیلٹ پیپرزکی چھپائی سرکاری پریس کے بجائے پرائیویٹ پرنٹنگ پریس سے کی جائے توشفافیت پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی اسی طرح ایک دن میں اگرایک شخص سات ووٹ ڈالے گا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ باہر سے لائے گئے ووٹوں کوبھی ان کے ساتھ بیلٹ بکس میں ڈال سکتاہے اس لئے تجویز ہے کہ ویلج اورنیبرہوڈکونسل کے انتخابات ایک مرحلے میں اور تحصیل وضلعی کونسل کے انتخابات دوسرے مرحلے میں کئے جائیں۔اس موقع پرصوبائی وزیرعنایت اللہ نے بتایاکہ ایوان کے اندر جو بے چینی پائی جارہی ہے انہیں اس کا احساس ہے بلدیاتی انتخابات کےلئے قانون سازی کرنا صوبائی حکومت کاکام ہے لیکن انتخابات کاانعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن یہ فیصلہ کرے کہ وہ انتظامیہ کے زیرنگرانی انتخابات چاہتی ہے یا عدلیہ کے ذریعے،عدلیہ پرسب کو اعتماد ہیں اس لئے عدلیہ کے ذریعے انتخابات کرائے جائیں۔انہوںنے کہا کہ اس کےلئے الیکشن کمیشن کو متفقہ قرار داد بھیجی جائے بعدازاں جے یوآئی کے رکن شاہ حسین نے قراردادپیش کی جس کو پی ٹی آئی کے ضیاءاللہ بنگش،اے این پی کے جعفر شاہ،قومی وطن پارٹی کے سکندرشیرپاﺅ،جماعت اسلامی کے سید گل اور ن لیگ کے راجہ فیصل زمان کی حمایت حاصل تھی ایوان نے متفقہ طورپرمنظوردیدی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…