پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کی متفقہ قراردادمنظورکرلی۔قرارداد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ30مئی کو صوبائی سطح پر ہونےوالے بلدیاتی انتخابات انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کی نگرانی میں کئے جائیں۔جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی کااجلاس سپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت شروع ہوا تو اراکین شاہ حسین،سکندرشیرپاﺅ،جعفرشاہ،منورخان اورراجہ فیصل زمان نے نکتہ اعتراض پربتایاکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کےلئے اپوزیشن جماعتوں کو تشویش ہے کہ اگریہ انتظامیہ کے زیرنگرانی ہوتے ہیں تو اس میں دھاندلی کے امکانات موجود ہونگے اس لئے اپوزیشن جماعتیں یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کاانعقاد انتظامیہ کی بجائے عدلیہ کے زیرنگرانی کئے جائیں کیونکہ اس وقت بلدیاتی الیکشن کےلئے تمام ریٹرنگ افیسرانتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں اپوزیشن اراکین کے مطابق تیس تاریخ کے بلدیاتی انتخابات کے سرکاری نتائج سات جون کو جب جاری کردئیے جائینگے تو ان نتائج میں بھی دھاندلی کے خدشات موجود ہونگے عام انتخابات میں جب اگلے روز نتائج کااعلان کیاجاتاہے توبلدیاتی انتخابات میں ایسا کیوں نہیں کیاجاتااس موقع پر صوبائی وزیر شاہ فرمان نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے لئے نوکروڑسے زائد بیلٹ پیپرکی ضرورت ہوتی ہے اوراگر ان بیلٹ پیپرزکی چھپائی سرکاری پریس کے بجائے پرائیویٹ پرنٹنگ پریس سے کی جائے توشفافیت پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی اسی طرح ایک دن میں اگرایک شخص سات ووٹ ڈالے گا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ باہر سے لائے گئے ووٹوں کوبھی ان کے ساتھ بیلٹ بکس میں ڈال سکتاہے اس لئے تجویز ہے کہ ویلج اورنیبرہوڈکونسل کے انتخابات ایک مرحلے میں اور تحصیل وضلعی کونسل کے انتخابات دوسرے مرحلے میں کئے جائیں۔اس موقع پرصوبائی وزیرعنایت اللہ نے بتایاکہ ایوان کے اندر جو بے چینی پائی جارہی ہے انہیں اس کا احساس ہے بلدیاتی انتخابات کےلئے قانون سازی کرنا صوبائی حکومت کاکام ہے لیکن انتخابات کاانعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن یہ فیصلہ کرے کہ وہ انتظامیہ کے زیرنگرانی انتخابات چاہتی ہے یا عدلیہ کے ذریعے،عدلیہ پرسب کو اعتماد ہیں اس لئے عدلیہ کے ذریعے انتخابات کرائے جائیں۔انہوںنے کہا کہ اس کےلئے الیکشن کمیشن کو متفقہ قرار داد بھیجی جائے بعدازاں جے یوآئی کے رکن شاہ حسین نے قراردادپیش کی جس کو پی ٹی آئی کے ضیاءاللہ بنگش،اے این پی کے جعفر شاہ،قومی وطن پارٹی کے سکندرشیرپاﺅ،جماعت اسلامی کے سید گل اور ن لیگ کے راجہ فیصل زمان کی حمایت حاصل تھی ایوان نے متفقہ طورپرمنظوردیدی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں بلدیاتی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کی متفقہ قراردادمنظور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2076ء
-
بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
-
مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ہلاک
-
پاکستان میں سیمنٹ کی قیمتیں برقرار، 50 کلو بوری کے تازہ ریٹس جاری
-
رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
-
عمران خان کا سیاسی مستقبل سیل کردیا گیا ہے، منیب فاروق کا دعویٰ
-
تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
-
طبی ماہرین نے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے میں مددگار آسان طریقہ دریافت کرلیا
-
بیوی کو طلاق دینے پر ندامت، 22 سالہ لڑکے نے تھوڑی دیر بعد خودکشی کرلی
-
فیفا صدر کا ارجنٹینا فٹبال فیڈریشن کو بھیجا گیا خط لیک ہوگیا
-
پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا
-
ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
قائدِاعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت



















































