جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

شدید ظلم اور ٹارچر کیا جا رہا ہے، مرسی کو ایسے ہی مارا گیا تھا، عمران خان کی عظمیٰ خان سے گفتگو

datetime 21  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران انہیں بتایا کہ ان کے ساتھ شدید زیادتی اور مبینہ تشدد کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سب کو بتایا جائے کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں رات تقریباً ساڑھے 8 بجے اڈیالہ جیل طلب کیا گیا۔ وہ کچھ دیر ڈی ایس پی ثقلین کے دفتر میں موجود رہیں، جس کے بعد انہیں ایک چھوٹی گاڑی میں لے جایا گیا۔ ان کے بقول راستے میں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے، بعد میں بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال کی او پی ڈی ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق جب وہ اوپر پہنچیں تو عمران خان وہاں موجود تھے۔

عمران خان نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ان کی بہن تقریباً 10 ماہ بعد ان سے ملاقات کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں محبت سے ملا اور اپنی صحت سے متعلق بھی بات کی۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر سمیت دیگر طبی معائنے کیے گئے۔ ایک ڈاکٹر نے ان کی آنکھ میں انجیکشن لگانے کی بات کی، تاہم ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق انہیں مختلف جگہوں پر بٹھایا جاتا رہا اور ایسا محسوس ہوا جیسے وقت گزارا جا رہا ہو۔ڈاکٹر عظمیٰ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے انہیں بتایا کہ انسانی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت متاثر ہوئی اور انہیں ہائپر ٹینشن کی شکایت بھی ہوئی۔ ایک آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا جبکہ دوسری آنکھ پر پٹی باندھی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پمز سے روانگی کے وقت انہوں نے بارہا پوچھا کہ عمران خان کو شفا اسپتال لے جایا جائے گا یا نہیں، لیکن انہیں واضح جواب نہیں دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر نے اپنا نام عارف بتایا، تاہم اس وقت ان کے پاس نہ موبائل فون تھا اور نہ گھڑی۔ بعد ازاں فجر کی اذان سنائی دی اور انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان بھی وہاں ایک دوسری گاڑی سے پہنچے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر اس وقت معمول پر تھا اور انہیں زیادہ پریشانی یا بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بار بار یہ کہتے رہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ان کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے اور انہیں کسی سے انسانی رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے عمران خان سے منسوب کرتے ہوئے مزید کہا کہ انہیں نہ ٹی وی کی سہولت مستقل طور پر دی گئی اور نہ ہی پڑھنے کا مناسب مواد فراہم کیا گیا۔ ان کے مطابق کچھ عرصے کے لیے ٹی وی چلایا گیا، لیکن دو دن بعد اسے بھی بند کردیا گیا۔ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت وہ عمران خان سے ملاقات کے لیے گئی تھیں اور انہیں توقع تھی کہ تمام ہدایات پر عمل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بظاہر جسمانی طور پر بالکل ٹھیک دکھائی دے رہے تھے اور ان کا بلڈ پریشر 120/80 ریکارڈ ہوا، تاہم ان کے مطابق عمران خان نے ذہنی دباؤ اور قیدِ تنہائی سے متعلق شدید شکایات کیں۔میں اس خبر کے لیے ایک سادہ نیوز گرافک بھی بنا سکتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…