جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں ترامیم قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور

datetime 21  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔

قانون کے مطابق ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا اطلاق 13 نومبر 2025 سے مؤثر تصور کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن نشستوں پر جاکر اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی اور بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے بھی مصافحہ کیا۔

اجلاس کے دوران ضمنی ایجنڈا پیش کیا گیا، جس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بل شامل تھے۔ اپوزیشن ارکان نے اعتراض اٹھایا کہ انہیں بلوں کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔ عالیہ کامران نے ارکان کو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا، جبکہ وزیر قانون نے بتایا کہ متعلقہ بل اراکین کے ٹیبلٹس میں موجود ہیں۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان کو بل کا مطالعہ کرنے اور اپنی تجاویز دینے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بل کم از کم دو، تین روز تک ارکان کے پاس رہنا چاہیے تاکہ اس پر تفصیلی بحث ہوسکے۔

محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے طبی حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ کسی بھی قیدی کو علاج معالجے کی سہولت ملنا اس کا بنیادی حق ہے، چاہے اس پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں۔

قومی اسمبلی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026 منظوری کے لیے پیش کیا گیا، جسے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجاً کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے بعد ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 بھی قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے واک آؤٹ کیا۔

### سینیٹ میں بھی دونوں بل منظور

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026 سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے متعلقہ تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔

بحث کے دوران ایمل ولی خان نے بل پر تفصیلی گفتگو کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہم قانون سازی جلد بازی کے بجائے کھلے انداز میں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کو مدنظر رکھ کر قانون نہیں بنایا جانا چاہیے اور اگر قانون اتنا اہم اور اچھا ہے تو اسے عوام اور پارلیمنٹ سے چھپانے کی ضرورت نہیں۔

ایمل ولی خان نے حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت ضمنی ایجنڈا لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ’کنکرنٹلی‘ کی اصطلاح شامل کی گئی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا تھا اور موجودہ قانون سازی اسی آئینی ترمیم کو عملی شکل دینے کے لیے کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے حالیہ معرکے میں باہمی تعاون اور مربوط انداز میں کام کیا۔

بعد ازاں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کو سینیٹ نے منظور کرلیا، جبکہ ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 بھی ایوان بالا سے منظور ہوگیا۔ اجلاس بعد میں اگلے روز صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

### وفاقی کابینہ کی منظوری

پارلیمنٹ سے منظوری سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور اس کے ہیڈکوارٹر سے متعلق انتظامی امور کو قانونی شکل دینا ہے۔

کابینہ سے منظوری کے بعد دونوں قوانین کو پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

ڈیفنس فورسز ایکٹ کے اہم نکات

نئے قانون کے تحت دفاعی افواج کے لیے ایک مرکزی ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا، جو مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا۔ اس ادارے کی کمان اور اختیارات چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس ہوں گے۔

قانون کے مطابق دفاعی ہیڈکوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق معاملات میں وزیراعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر کے طور پر کردار ادا کرے گا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے عملی کمانڈ اور کنٹرول کے اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ اس حوالے سے وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کو مشترکہ کارروائیوں، باہمی تعاون، رابطہ کاری اور مسلح افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے لیے ضروری اختیارات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ قانون کے مطابق وہ متعلقہ قوانین کے تحت فوجی اہلکاروں کے تقرر، ریٹائرمنٹ، سبکدوشی اور ملازمت سے متعلق بعض اختیارات بھی استعمال کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج میں استعفے منظور یا مسترد کرنے اور بعض حالات میں ملازمت برقرار رکھنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ ملازمت کی مدت یا ریٹائرمنٹ کی عمر سے متعلق بعض معاملات میں بھی قانون کے تحت اختیار دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت قانون پر مؤثر عملدرآمد کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرے گی، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ان قواعد کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری احکامات اور ہدایات جاری کرسکیں گے۔

قانون پر عملدرآمد کے دوران اگر کسی مشکل یا موجودہ قانون سے تضاد کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کے ازالے کے لیے صدر مملکت کو اختیار حاصل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…