اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر مشترکہ فضائی و میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شہر کے مختلف حصوں سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حملوں میں مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ سیستان، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی کئی میزائل گرے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔ تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ امریکی حکام کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی سے متعلق معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے پر ناراض تھے، اور کارروائی فضائی و بحری دونوں محاذوں سے جاری ہے۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ اس آپریشن کا مقصد امریکی عوام کو درپیش خطرات کا خاتمہ اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا میزائل نظام اور بحری صلاحیتیں بھی نشانے پر ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی طرف سے بھی جوابی میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کو شیلٹرز میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی اور اس کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں قبل کیا گیا تھا۔ اسرائیل بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے اور شہریوں کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ایران نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ عراق نے بھی فضائی ٹریفک معطل کر دی۔ ایرانی حکام نے سخت جوابی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ردعمل انتہائی سخت ہوگا اور صورتحال اب مخالفین کے اختیار میں نہیں رہی۔
علاوہ ازیں قطر میں موجود امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو شیلٹر میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ روس سمیت کئی ممالک نے خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث ایران اور اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں اور اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے یا ملک چھوڑنے کی ہدایات دی ہیں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق ایران کے خلاف فوجی آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔



















































